خطبات محمود (جلد 17) — Page 27
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۱۸ سال ۱۹۳۶ء صلى الله تک فخر کیا جاتا ہے ۔ اب وہی خزانہ جو صحابہ کو رسول کریم ﷺ سے ملا جماعت احمد یہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے توسط سے پھر بطور ورثہ ملا ہے۔ دنیا کچھ باتیں بنائے ، کوئی اعتراض کرے یہ حقیقت ہے کہ تمام دنیا تمہاری میراث ہے اور خدا تعالیٰ نے تمہیں دی ہے۔ اب یہ تمہارا کام ہے کہ ان جائز ذرائع سے جو خدا تعالیٰ نے مقرر کئے ہیں اسے حاصل کرو اور اس کے حاصل کرنے کا پہلا قدم یہی ہے کہ ہمارے نوجوان دنیا میں نکل جائیں ، خود کمائیں اور کھائیں اور تبلیغ احمدیت بھی کرتے پھریں۔ رب سے اور پس علاوہ اس تحریک کے کہ مبلغین کے طور پر نوجوان اپنے آپ کو وقف کریں، پیشہ وروں کے طور پر بھی ہمارے نو جوانوں کو باہر نکلنا چاہئے اس میں ہزاروں بہتریاں ہو سکتی ہیں۔ بسا اوقات انسان ایک ملک میں عزت نہیں پاتا مگر دوسرے ملک میں عزت پا جاتا ہے۔ ہندوستان کے بڑے بڑے نواب ایران اور افغانستان کے معمولی معمولی آدمی تھے جنہیں اپنے ملکوں میں عزت نہ ملی تو وہ ہندوستان آگئے اور یہاں آ کر نواب بن گئے بلکہ اب تک ان کی نسلیں نوابی کر رہی ہیں ۔ وہ جو اپنے آپ کو اب بنی نوع انسان سے کچھ علیحدہ وجود سمجھتے ہیں خانہ بدوشوں کی طرح ایران ا سے ہندوستان آئے یہاں آکر انہیں کوئی موقع مل گیا اور وہ بڑے بڑے عہدوں پر پہنچ گئے ۔ بنگال کے لوگوں کو انگریز فوج میں داخل نہیں کیا کرتے کیونکہ وہ بزدل سمجھے جاتے ہیں لیکن ا مجھے جا۔ ساؤتھ امریکہ میں ایک بنگالی جرنیل ہے معلوم نہیں وہ اب زندہ ہے یا نہیں لیکن آج سے دس سال جرنیل ہے علم نہیں وہ اب زندہ ہے یا ہیں لیکن آنا ہ سے پہلے وہ زندہ تھا۔ پس یہاں تو بنگالی سپاہی کے طور بھی نہیں لئے جاتے لیکن جنوبی امریکہ میں پہنچ کر ایک بنگالی جرنیل بن گیا۔ میں اس عام قاعدہ کوتسلیم کرتا ہوں کہ جس شخص کی لیاقت کے ظاہر ہونے کا ایک جگہ موقع نہ ملے وہ دوسری جگہ بھی لیاقت ظاہر نہیں کر سکتا لیکن یہ ایک گلی قاعدہ نہیں ۔ بعض دفعہ ایک چیز ایک جگہ فٹ نہیں آتی اور رڈی سمجھ کر پھینک دی جاتی ہے مگر دوسری جگہ فٹ آجاتی ہے۔ ایک اینٹ ایک جگہ معمار رکھتا ہے تو وہ پوری نہیں اُترتی اور معمار اُ سے اُٹھا کر پھینک دیتا ہے لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد ایک اور جگہ نکل آتی ہے جہاں اُس اینٹ کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اُس کے سوا کوئی اور اینٹ لگ ہی نہیں سکتی تب وہ اُس اینٹ کو جسے رڈی سمجھ کر پھینک چکا ہوتا ہے پھر اُٹھاتا اور اُس جگہ لگا دیتا ہے اور اس طرح اُس کی عزت قائم ہو جاتی ہے۔ رسول کریم ﷺ نے صلى الله