خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 27

خطبات محمود ۲۷ سال ۱۹۳۶ء روزہ عبادت ہے، جیسے زکوۃ عبادت ہے، جیسے حج عبادت ہے۔آخر صدقہ و خیرات نماز کی طرح عبادت میں داخل ہے یا نہیں؟ پھر کیا وجہ ہے کہ یہ کام عبادت نہ ہو جو صرف غرباء کے فائدہ کیلئے کیا کی جائے گا۔اگر ایک غریب کو صدقہ دینا نیکی ہے تو غریبوں کو پیشے سکھانا، بیواؤں اور یتیموں کیلئے کام مہیا کرنا اور ان کی زندگی کو سنوارنا کیوں نیکی نہیں۔اسی طرح کے اور بھی بہت سے کام ہیں جو تحریک جدید کے ماتحت نکلیں گے۔پس ان کاموں کے لئے ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جنہیں کچھ تجر بہ بھی ہو ، صحت بھی اچھی ہو اور جن میں ابھی طاقت ہو۔ایسے بوڑھے نہیں چاہئیں جو کام سے رہ چکے ہوں بلکہ وہ زیادہ عمر والے جو ابھی جواں ہمت ہوں، چلنے پھرنے کی طاقت رکھتے ہوں اور دس بارہ گھنٹے متواتر اگر انہیں کام کرنا پڑے تو کر سکتے ہوں ایسے لوگوں کی ہمیں ضرورت ہے۔پنشن لینے کے بعد ہر شخص ناکارہ نہیں ہو جا تا بلکہ دنیا کا تجربہ یہ ہے کہ پینشن لینے کے بعد جو شخص کام نہیں کرتا وہ ناکارہ ہو جاتا ہے۔ہمارے نانا جان میر ناصر نواب صاحب نے پنشن لینے کے بعد سلسلہ کا کام کرنا شروع کیا۔وہ قریباً ۷۶ سال کی عمر میں فوت ہوئے ہیں مگر سوائے آخری دو سالوں کے اُن کی طاقتیں اتنی اعلیٰ تھیں کہ کام کرتے وقت نو جوان اُن سے پیچھے رہ جایا کرتے تھے۔میں نے ہمیشہ ان کے منہ سے سنا جب کسی نے کہنا کہ آپ اب کیوں کام کرتے ہیں ؟ تو وہ کہتے میں نے دیکھا ہے جو لوگ پنشن لینے کے بعد کام نہیں کرتے وہ جلدی مرجاتے ہیں اور واقعہ میں کثرت سے ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ اِ دھر لوگوں نے پنشن لی اور اُدھر فوت ہو گئے۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہیں کام کرنے کی عادت ہوتی ہے مگر جب گھر میں آکر بالکل فارغ بیٹھ رہتے ہیں تو آہستہ آہستہ طبیعت پر یہ خیال غالب آجاتا ہے کہ ہم بڑھے ہوگئے اور اس طرح ناکارہ رہ کر بیمار ہو جاتے اور مرجاتے ہیں۔اگر وہ کام کرتے رہتے تو بڑھے ہونے کا سوال ہی ان کے دل میں پیدا نہ ہوتا۔پس سکتے بیٹھے رہنے سے عمریں کم ہو جاتی ہیں پھر ان کے وجود سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچتا گویا وہ زندگی نہ اپنے لئے مفید ہوتی ہے نہ دوسروں کیلئے۔پس میں نے تحریک کی تھی کہ دنیا کا کام اور حکومت کا کام کرنے کے بعد جو لوگ فارغ ہو جاتے ہیں انہیں کم از کم پنشن کے بعد کا وقت تو خدا تعالیٰ کیلئے وقف کرنا چاہئے تا مرنے کے بعد وہ خدا تعالیٰ سے کہہ سکیں کہ اے خدا! ہمیں اپنی زندگی میں جو وقت فرصت کا ملا اُسے ہم نے تیرے