خطبات محمود (جلد 17) — Page 264
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۵۵ سال ۱۹۳۶ء بڑھتا ۔ یہ خیال جو نہی میرے دل میں آیا میں نے جھٹ تلوار نکال کر اس کافر کی گردن اڑادی اور ساتھ ہی خیال آیا کہ اب میری تو یہ بھی قبول ہو جائے گی ۔ تو حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر جسمانی طور پر ہنزال رکھتے تھے مگر اپنے ایمان اور اخلاص کی وجہ سے ایک کامیاب جرنیل سمجھے جاتے تھے۔ اسی طرح حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مشہور جرنیل تھے مگر دُبلے پتلے اور چھوٹے قد کے آدمی تھی ۔ چنانچہ ایک ضرب المثل ہے کہ كُلُّ قَصِيرٍ فِتْنَةٌ إِلَّا عَلی ۔ ہر چھوٹا قد رکھنے والا انسان فتنہ ہوتا ہے۔ یعنی بڑا متفی ہوتا ہے مگر حضرت علیؓ باوجود چھوٹا قد رکھنے کے ایسے نہیں تھے۔ اور حضرت عمر کے متعلق کہتے ہیں کہ كُلُّ طَوِيلِ اَحْمَقٌ إِلَّا عُمَرُ ہر لمبا انسان احمق ہوتا ہے مگر حضرت عمر با وجود لمبا ہونے کے ایسے نہ تھے ۔ یہ تو ایک مثال ہے اور عام طور پر ایسا ہو بھی جاتا ہے کیونکہ بعض قدوں کے ساتھ بعض باتیں وابستہ ہوتی ہیں لیکن اس سے یہ ضرور معلوم ہو جاتا ہے کہ حضرت علیؓ جو ایک مشہور جرنیل تھے دبلے پتلے اور چھوٹے قد کے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّكَ كَادِحٌ إِلى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلقِيهِ تم اپنے جسموں کی حفاظت کر کے اور بناؤ سنگھار کر کے خدا تعالیٰ کو حاصل نہیں کر سکتے بلکہ جب محنتیں اور مشقتیں تمہارے جسم کے اندر داخل ہو کر تمہیں گھائل کر دیں اور تم میں ہنزال نظر آنے لگے اس وقت تم خدا تعالیٰ کے حضور پہنچو گے اور تمہارے دائیں ہاتھ میں تمہارے اعمال کا کاغذ دیا جائے گا اور کہا جائے گا اب تمہیں محنتوں کا ثمر ملنے والا ہے جاؤ بہشت میں داخل ہو جاؤ ۔ مگر یہ نہیں کہ بہشت میں آرام مل جائے گا بلکہ بہشت میں بھی کام کرنا پڑے گا۔ آرام کا لفظ اس جگہ ان معنوں کے لحاظ سے میں نے استعمال کیا ہے جو عام طور پر اس کے لوگ سمجھتے ہیں کہ کوئی کام نہ ہو اور ہاتھ پر ہاتھ دھر کر انسان بیٹھا رہے اس قسم کا آرام بہشت میں بھی نہیں ۔ چنانچہ قرآن کریم سے ہمیں یہی معلوم ہوتا ہے کہ بہشت کام کی جگہ ہے اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بہشت میں نکما بیٹھا رہنا ہو گا وہ غلط سمجھتے ہیں ۔ غرض انسان کیلئے آرام اور حقیقی راحت کام میں ہی ہوتی ہے سکتے پن میں نہیں ہوتی اور میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو محنت اور مشقت سے کام کرنے کی عادت ڈالیں ورنہ میرے ساتھ ان کا گزارہ نہیں ہو سکتا۔ میں نے ایک عرصہ تک سلسلہ کے دفاتر میں دخل نہیں دیا اور جب میرے پاس لوگ شکایات لاتے تو میں انہیں کہتا کہ متعلقہ دفاتر میں جاؤ ۔ اس سے میری غرض یہ تھی کہ جماعت کو سلسلہ کے نظام کی پابندی کی عادت