خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 263

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۵۴ سال ۱۹۳۶ء کے ساتھ اخلاص ہو وہ ہنزال انسانی حوصلہ کو بڑھا دیتا ہے اور اسے کمزور نہیں رہنے دیتا ۔ جب خلافت کا جھگڑا ہوا اُس وقت ہمارے ایک دوست جو ایم ۔ اے ہیں اور بنگال کے رہنے والے ہیں خواجہ کمال الدین صاحب کے بہت مداح تھے وہ خلافت کے منکر نہیں تھے مگر کہتے تھے کہ خلافت کے اہل خواجہ صاحب ہیں میں نہیں ۔ مجھ سے چونکہ وہ ذاتی طور پر واقف تھے اور جانتے تھے کہ میری صحت ہمیشہ کمزور رہتی ہے لیکن ان کا یہ خیال تھا کہ ایک دفعہ اللہ تعالیٰ کی طرف انہوں نے توجہ کی تو الہام ہوا ”بادشاہی را نشاید پیلتن کہ بادشاہی کیلئے ہاتھی جیسا جسم نہیں چاہئے ۔ چنانچہ اس کے بعد انہوں نے میری بیعت کر لی اور بھی الہام انہیں ہوئے تھے مگر ایک الہام یہ تھا۔ تو ہنزال جس کے ساتھ ایمان ہو وہ انسان کو خراب نہیں کرتا ایسا انسان کشتی میں بے شک ہار سکتا ہے مگر اپنے فن میں نہیں ہارتا ۔ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے تھے اور اپنے تقویٰ و طہارت اور خدمت دین کی وجہ سے بہت مشہور ہیں دبلے پتلے تھے مگر لڑائی کے کامیاب جرنیلوں میں سے ایک جرنیل سمجھے جاتے تھے۔ ایک دفعہ کفار کے ایک مشہور جرنیل سے ان کا مقابلہ ہو گیا وہ آدمی تھا ذہین اُس نے سوچا میں تلوار میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکوں گا یہ دبلا پتلا اور پھر تیلے جسم کا آدمی ہے تلوار کے وار میں کامیاب ہو جائے گا اس لئے اس نے داؤ کھیل کر ان کی کمر پر ہاتھ ڈال دیا اور جس طرح تنکا اُٹھایا جاتا ہے اسی طرح اُس نے اُنہیں اٹھا کر زمین پر پھینکا اور ان کے سینہ پر بیٹھ کر تلوار اٹھائی کہ ان کی گردن کاٹ دے۔ اتنے میں پیچھے سے ایک شخص نے جو اسلام سے مرتد ہو کر عیسا جو اسلام سے مرتد ہو کر عیسائیوں میں شامل ہو چکا تھا تلوار سے اس کا فر کی گردن اڑادی ہو اور اس کا سرکاٹ کر مسلمانوں کے لشکر میں لے آیا۔ اسلامی لشکر یہ دیکھ کر حیران رہ گیا اور لوگوں نے کہا تو تو مرتد تھا تو نے اپنے جرنیل کو کس طرح مار دیا؟ وہ کہنے لگا ارتداد کے بعد ہمیشہ میرے دل میں ندامت پیدا ہوتی اور میں اپنی حالت پر افسوس کرتا لیکن ساتھ ہی میں کہتا مجھ سے اتنا بڑا قصور ہوا ہے اب میری تو بہ کہاں قبول ہو سکتی ہے یہاں تک کہ یہ دن آیا اور آج جب عبدالرحمن بن ابی بکر کو اُس نے گرایا اور تلوار سے گردن کاٹنے لگا تو مجھے چونکہ اُن کی نیکی اور تقویٰ کا حال معلوم تھا میرے دل میں یکدم جوش آیا کہ کمبخت آج اگر تو نے دین کی خدمت نہ کی تو اور کونسا دن ہوگا جب تو نہ تو دین کی خدمت کرے گا دیکھ! اسلام کا ایک درخشندہ ستارہ غائب ہونے لگا ہے تو کیوں آگے نہیں