خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 261

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۵۲ سال ۱۹۳۶ء رقعے پڑھ کر مجھے دیتی جاؤ اور بتائی جاؤ کہ اس میں کیا لکھا ہے کیونکہ کام بہت سا اکٹھا ہو گیا ہے ۔ چنانچہ ہم دونوں نے بیٹھ کر رات کے تین بجے تک کام ختم کیا اور سوتے ہوئے قریباً چار بج گئے ۔ یہ بات بتاتی ہے کہ ہماری جماعت کے نوجوانوں کو ابھی کام کرنے کی عادت نہیں ورنہ اگر کام کرنے کی عادت ہو تو تین بجے تک کام کرنے کو اہمیت دینا تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص تنکا اٹھا کر نا چتا پھرے کہ میں نے کتنا بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔ ایسی کئی راتیں مجھ پر گزری ہیں جن میں مجھے صبح کی نماز تک کام کرنا پڑا ہے کئی کتابیں میں نے ایسی لکھی ہیں جن میں بعض دوسرے دوست بھی میرے شریک تھے اور ہم صبح تک کام کرتے چلے گئے صبح کی نماز پڑھ کر پھر بیٹھ گئے اور رات تک کام کرتے رہے۔ پس کام کرنے سے گھبرانا ایک ایسی بات ہے جو میری سمجھ سے بالا ہے حالانکہ میری غرض تحریک جدید اور ان صیغوں کے قائم کرنے سے ہے ہی یہ کہ لوگوں کو کام کرنے کی عادت ڈالی جائے اور نئی پودا تنا کام کرنے کی عادی ہو کہ وہ سمجھے ہی نہ کہ کام ہوتا کیا ہے۔ یہی لعنت تو میں دور کرنا چاہتا ہوں کہ اب چھ بج چکے ہیں ، اب سات بج چکے ہیں ، اب دس بج چکے اور ہمیں دفتر بند کر کے چلے جانا چاہئے کیونکہ یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ دس بج چکے ہیں یا نہیں بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ کام ختم کر لیا گیا ہے یا نہیں یا کام ختم ہونا ناممکن تو نہیں ہو گیا۔ میں یہ مانتا ہوں کہ انسانی طاقت کی حد ہے مگر جو اس حد سے پہلے ہی رہ جاتے ہیں وہ کسی تعریف کے مستحق نہیں سمجھے جاتے ۔ کام کر نیوالے لوگ تو جب انہیں کوئی ضروری کام لاحق ہو دو دو راتیں مسلسل جاگنا بھی کوئی بڑی بات دو دو نہیں سمجھتے اور در حقیق اور در حقیقت کام کرنے والا آدمی اگر کام کر کے تھوڑ اسا سو جائے تو پھر دوبارہ اس کے کام کرنے کی ویسی ہی طاقت پیدا ہو جاتی ہے جیسے پہلے ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں جب کوئی ضروری کام آپڑے ہو سکتا ہے کہ ایک سو جائے اور دوسرا کام کرتا رہے پھر دوسرا سو جائے اور پہلا کام کرنے لگے گویا باری باری وہ کام کرتے رہیں اسی طرح کام بھی ہو جاتا ہے اور تھکان بھی محسوس نہیں ہوتی ۔ مگر جب تک یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ ہم نے کام ختم کرنا ہے وقت نہیں دیکھنا اس وقت تک کاموں میں تعویق ہوتی چلی جائے گی ۔ یہی وجہ ہے جو کام چوبیس گھنٹے میں ہو سکتا ہے ہمارے آدمی اس پر ہفتہ ہفتہ لگا دیتے ہیں اور پھر بھی بعض دفعہ احسن صورت میں نہیں ہوتا ۔ پس میں اس امر کو اس لئے خطبہ میں بیان کر دیتا ہوں کہ ایک طرف جماعت کو میں توجہ ہتا