خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 26

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۱۷ سال ۱۹۳۶ء یا بعض صفوں میں اسے بیٹھنے نہ دیا جائے تو یہ امتیاز کیلئے نہیں ہوگا بلکہ اس کی شرارت اور ایذاء سے بچنے کیلئے ہوگا اور شرارت کے روکنے اور امتیاز کو قائم کرنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ غرض ایک مجنون یا فسادی کو مسجد سے نکالا جا سکتا ہے یا اُس کی نشست پر قید لگائی جاسکتی ہے مگر اس لئے کسی کو مسجد سے نہیں نکالا جا سکتا یا اس پر قید نہیں لگائی جاسکتی کہ وہ دوسروں سے کم مالدار ہے یا ادنیٰ قوم کا ہے یا مشرق کا ہے یا مغرب کا ہے کیونکہ یہ امتیاز ہے اور امتیاز مساجد میں روانہیں چاہے کوئی ہو۔ بادشاہ ہوں یا فقیر، امیر ہوں یا غریب ، چھوٹے ہوں یا بڑے سب ایک صف میں کھڑے ہوں گے، برابر کھڑے ہوں گے اور ان میں کوئی امتیاز نہیں ہوگا۔ تو رسول کریم ﷺ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا سے امتیاز مشرق و مغرب اور امتیاز ادنیٰ و اعلیٰ مٹا دیا۔ اور جب ساری دنیا ایک گھر بن گئی تو اب اس میں کیا حرج ہے کہ کوئی دنیا کے ایک کونے میں رہے اور دوسرا دوسرے کونے میں ۔ یہی وجہ ہے کہ جو نہی اسلام دنیا میں آیا سفروں کی مشکلات کا خیال تک لوگوں کے ذہن سے مٹ گیا۔ جتنے بڑے بڑے مسلمان مصنف گزرے ہیں ان سب کی زندگیوں پر غور کر کے دیکھ لو تمہیں معلوم ہوگا کہ کوئی تیس سال سفر میں رہا ہے، کوئی چالیس سال سفر میں رہا ہے، کوئی پچاس سال سفر میں رہا ہے۔ چنانچہ اسی لئے اسلام کے ابتدائی دو سو سال میں دنیا کے بہترین جغرافیے لکھے گئے ہیں بلکہ رسول کریم ﷺ کی بعثت سے پچاس سال کے اندر اندر مسلمان دنیا میں پھیل گئے اور سو سال کے اندر انہوں نے دنیا کے جغرافیوں کی بنیاد قائم کر دی اور دو سو سال کے اندر ایسے کی جغرافیے لکھے جن پر آج تک جغرافیوں کی بنیاد رکھی جاتی ہے بلکہ ہندوستانیوں نے ہندوستان کا ایسا مکمل جغرافیہ نہیں بنایا تھا جو مسلمانوں نے پہلے دو سو سال میں ہندوستان کا بنایا۔ ایرانیوں نے ایران کا ایسا مکمل جغرافیہ نہیں بنایا تھا جو عربوں نے ابتدائی دو سو سال میں ایران کا بنایا۔ اسی طرح سیلون ، سٹریٹس سیٹلمنٹس ہے، جاپان اور چائنا کے جو جغرافیے دنیا میں پائے جاتے ہیں یہ سب جغرافیے ابتدائی دو سو سال کے عرصہ میں مسلمانوں نے بنائے تھے ۔ ایسا کیوں ہوا؟ اسی لئے کہ مسلمان کسی ملکی پابندی کے قائل نہ تھے بلکہ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے ساری دنیا ایک گھر کی طرح بنادی ہے اور چونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ساری دنیا ہمارے لئے ایک گھر کی طرح بنادی گئی ہے اس لئے وہ نکل گئے اور دنیا میں پھیل گئے اور انہوں نے وہ خدمات سران مات سرانجام دیں جن پر آج صلى الله