خطبات محمود (جلد 17) — Page 253
خطبات محمود ۲۵۳ سال ۱۹۳۶ دلا نا چاہتا ہوں کہ اس معاملہ میں اس کے تعاون کی ضرورت ہے۔جو بچے گھروں پہ رہتے ہیں ان کے متعلق والدین کا فرض ہے کہ وہ انہیں کام پر لگائیں اور محنت اور مشقت کی انہیں عادت ڈالیں۔مثل مشہور ہے کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔اگر نو جوانوں کا ایک حصہ ایسا کی ہو جوست کاہل اور غافل ہو تو انہیں دیکھ کر دسرے بھی متاثر ہوتے ہیں۔پس انہیں جفاکش اور محنتی ہے بناؤ اور اگر بیماریاں ان کی سستی کا باعث ہیں تو ان کا علاج کر ولیکن اگر بیماری کوئی نہ ہو اور انسان پھر بھی کاہل اور غافل ہو اور کام سے جی چرانے لگے تو ایسا انسان اپنے ملک کیلئے عار اور مذہب کیلئے نگ کا موجب ہوتا ہے۔اس کے ساتھ ہی میں صدر انجمن کے دوسرے کارکنوں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ اس معاملہ میں تعہد سے کام لیں اور محنت سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔ممکن ہے میری غلطی ہو لیکن میرا اندازہ ہے کہ ہم میں سے سب سے زیادہ محنت سے کام کرنے والے لوگ بھی اپنی طاقت سے تیسر حصہ کام کرتے ہیں اور جب اپنے میں سے سب سے زیادہ محنتی لوگوں کے متعلق میں یہ سمجھتا ہوں تو دوسرے لوگ سمجھتے ہیں ان کے کام کی ان کی طاقت کے مقابلہ میں کیا نسبت ہوگی۔بہر حال میرا یہ اندازہ ہے کہ ہم میں سے محنتی شخص بھی اپنی طاقت سے تیسرا حصہ کام کرتا ہے۔کچھ تو اس طرح کہ وہ ہوشیاری سے کام نہیں لیتا اور آدھ گھنٹے کا کام گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ میں کرتا ہے اور کچھ اس طرح کہ ނ جتنا وقت کام کیلئے دینا چاہئے اتنا وقت وہ نہیں دیتا اور اگر کارکن وقت بھی زیادہ دیں اور چستی بھی کام لیں تو میں سمجھتا ہوں موجودہ نسبت سے وہ تین گنے زیادہ کام کر سکتے ہیں۔اب خیال کرو اس وقت جتنے سلسلہ کے کارکن ہیں اگر وہ اس تعداد سے تین گنے زیادہ ہو جائیں تو کتنا کام ہونے لگے۔لیکن اگر ہمارے موجودہ کارکن ہی اپنے دل میں زیادہ کام کرنے کا پختہ ارادہ کر لیں اور اس کی کے مطابق عمل کریں تو وہی صورت اب بھی پیدا ہوسکتی ہے اور دنیا کو بہت زیادہ کام دکھا سکتے ہیں۔کتنی ہی تبلیغ بڑھ سکتی ہے، کتنی ہی تصنیف بڑھ سکتی ہے اور کتنی ہی تربیت بڑھ سکتی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ تو کرح چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انسان اتنی محنت کرے اتنی محنت کرے کہ اس کے جسم میں ہزال ۵ پیدا ہو جائے۔یہ مت خیال کرو کہ جس قوم کے افراد میں ہزال آجائے گا وہ تباہ ہو تی جائے گی۔یہ یورپین لوگوں کا خیال ہے جس کی اسلام تائید نہیں کرتا۔اسلام یہ کہتا ہے کہ جس ہنزال