خطبات محمود (جلد 17) — Page 252
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۴۳ سال ۱۹۳۶ء گئی ، کبھی پروفیسروں کے خلاف شروع کر دی گئی اور کبھی اپنے ماں باپ کے خلاف ہی ستیہ گرہ ہونے لگی ۔ گویا ستیہ گرہ ایک غلط اصل کی وجہ سے دنیا کی بدترین ستیہ گرہ ہو گئی یعنی بجائے سچائی کی تائید کے جھوٹ کی تائید اس سے ہونے لگی ۔ پس اخلاقی طور پر اس تحریک نے لوگوں کو بہت نقصان پہنچایا ۔ اسی طرح کانگرس کی تحریک کے نتیجہ میں گو خود کانگرس والے اس کے بانی نہیں ہوئے مگر بہر حال اس کے نتیجہ میں ٹیررازم یعنی دہشت انگیزی اور قتل کی تحریک شروع ہوئی گویا نو جوانوں کی اخلاقی طور پر موت واقع ہو گئی۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ کانگرس والوں نے اس بات کی تو قیمت سمجھی کہ جسم غلامی سے آزاد ہونے چاہئیں مگر انہوں نے اس بات کی کوئی قیمت نہ سمجھی کہ ذہن بھی غلامی سے آزاد ہونے چاہئیں کیونکہ اخلاق کی قیمت ان کے نزدیک معمولی تھی مگر جسموں کی قیمت بہت زیادہ تھی اور یہ مرض کا نگرس والوں سے خصوصیت نہیں رکھتا تمام دنیا میں یہ مرض پھیلا ہوا ہے یہی حالت ان ممالک کی بھی ہے جو آجکل ترقی یافتہ سمجھے جاتے ہیں ۔ کیا انگلستان ، کیا فرانس ، کیا جرمنی اور کیا امریکہ سب کے نزدیک انسانوں کی اخلاقی حالت خواہ کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو انہیں اس کی چنداں پرواہ نہیں ہو گی لیکن جسمانی حالت گرنے کی انہیں فوراً فکر شروع ہو جائے گی ۔ اگر ان کے ملک کے سکہ کی قیمت گرتی ہے تو وہ گھبرا جاتے ہیں لیکن اگر ان کے نوجوانوں کے اخلاق گر جائیں تو اس کی انہیں پرواہ نہیں ہوتی ۔ اگر ان کا شلنگ بارہ پیس کی بجائے گیارہ پنس کا ہو جائے تو وہ گھبرا جاتے ہیں لیکن اگر ان کے ملک میں جو ابازی عام ہو جائے ، شراب خوری زیادہ ہو جائے ، فواحش کی کثرت ہو جائے تو اس کی انہیں اتنی فکر نہیں ہوتی یا جھوٹ ، دعا اور فریب پھیل جائے تو اس کی انہیں فکر نہیں ہو گی لیکن شلنگ کا بارہ پنس کی جگہ گیارہ پنس کا ہو جانا ان کے ہاں بہت بڑی اہمیت رکھے گا ۔ تو درحقیقت تمام انسان سوائے ان لوگوں کے جو مذہبی اثر کے نیچے ہوتے اور انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کے تابع ہوتے ہیں قومی اخلاق کی طرف توجہ نہیں کرتے لیکن مال و دولت کے بڑھانے کی طرف زیادہ توجہ کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی تمام تر کوششیں ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا س کا مصداق بن کر رہ جاتی ہیں ۔ ان کی ساری کوششیں دنیا کے معاملات میں ہی صرف ہو جاتی ہیں دین کے معاملات میں خرچ نہیں ہوتیں ۔ مگر ان سے اُتر کر ایک اور گروہ بھی ہے یا یہ کہنا چاہئے کہ ان سے بدتر ایک اور گروہ ہے جس کی کوششیں