خطبات محمود (جلد 17) — Page 236
خطبات محمود ۲۳۶ سال ۱۹۳۶ مناسب نہیں کہ آپ ایک ہی آدمی کا نام بھیجتے ہیں دو تین نام بھیجیں تا میرا اختیار بھی تو ثابت ہوتی کہ میں جس کو ان میں سے چاہوں رکھ سکتا ہوں گو میں کروں گا وہی جو آپ کہیں گے۔اس پر ی پرنسپل نے بالا افسر کا اختیار ثابت کرنے کیلئے ایک اور شخص کا نام بھی لکھ دیا مگر ساتھ ہی لکھ دیا کہ یہ اس علم سے واقف نہیں۔آپ نے چونکہ لکھا ہے کہ دوسرا نام چاہئے اور میرے پاس کوئی اور آدمی ہے نہیں اس لئے یہ نام بھیجتا ہوں۔اب یہ دوسرا آدمی چونکہ اس بالا افسر کا ہم مذہب تھا اس نے حکم دیا کہ اسے رکھ لیا جائے۔اس پر پرنسپل نے اس سے بھی ایک بالا افسر کے پاس شکایت کی کہ آپ نگران اعلیٰ ہیں یہ کس قدر عجیب بات ہے۔میں نے جس شخص کی سفارش کی تھی وہ انگلینڈ کا کی یافتہ اور بطور نائب پروفیسر پہلے سے کام کرتا تھا۔میرا اس سے وعدہ بھی تھا کہ جگہ نکلنے کو رکھا جائے گا مگر اس کی بجائے ایسے شخص کو مقرر کر دیا گیا جو اس علم سے بھی ناواقف ہے۔اس پر اس بالا افسر نے جیسا کہ سرکاری افسروں کا قاعدہ ہے پرنسپل سے تو یہی کہا کہ یہ معاملہ میرے پاس لانے والا نہیں اعلیٰ افسر سے کہیں۔اور ادھر اس افسر سے کہا کہ یہ کیا بیوقوفی تم نے کی ہے خیر میں نے تمہاری عزت رکھ لی ہے اور تمہارے ہی پاس معاملہ کو بھیجا ہے خود ہی سلجھالو۔اب پرنسپل تقرر کر نیوالے افسر کے پاس پہنچا کہ حضرت یہ کیا معاملہ ہے اور آپ نے یہ کیا کر دیا۔اس پر اس کی نے پگڑی اتار کر اس کے پاؤں پر رکھ دی کہ میں پرانے فیشن کا آدمی ہوں مجھے ان باتوں کا کیا پتہ ہے اب میری عزت تمہارے ہاتھ میں ہے۔اس پر پرنسپل بے بس ہو گیا اور اس نے کہا کہ اچھا جس طرح ہوگا میں کام چلا لوں گا۔یہ بات ایک نہایت ہی ذمہ دار افسر نے جو ہزاروں روپیہ نخواد لے رہا ہے مجھ سے بیان کی تھی۔مگر وہاں تو اس نے پگڑی رکھ کر اپنی عزت بچالی مگر یہاں تو عزت بچانے کی کوئی صورت ہی نہیں۔پھر ہم نے خود یہ حالات پیدا نہیں کئے۔اگر ہمارا اختیار ہوتا تو کبھی بھی ایسی حالت پیدا نہ ہونے دیتے جس سے حکومت کو مشکلات کا سامنا ہو مگر خود اس نے ایسے حالات پیدا کئے ہیں اس لئے اب نباہنا بھی اسی کا کام ہے۔اس کی وضاحت کیلئے ایک مثال پیش کی کرتا ہوں۔یہ حکومت عیسائی ہے اس لئے اس کے گھر کی مثال ہی دیتا ہوں۔ہمارے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہی مقام ہے جو موسوی سلسلہ میں حضرت عیسی کا ہے بلکہ ہمارے نزدیک تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درجہ حضرت عیسی علیہ السلام سے بھی بڑا ہے۔وہ اگر اُسے