خطبات محمود (جلد 17) — Page 236
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۲۷ سال ۱۹۳۶ء کر لیتے ۔ مگر جب وہ فیصلہ برا بر شائع ہو رہا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کو غلط رنگ میں احرار اخباروں میں شائع کرتے ہیں اور حکومت اس پر کوئی نوٹس نہیں لیتی ۔ ہائیکورٹ کے حج نے لکھا ہے کہ میں واقعات میں نہیں جا سکتا کیونکہ حکومت نے سزا بڑھانے کی درخواست نہیں کی اور میں نے صرف یہ دیکھنا ہے کہ عدالت نے اپنے رستہ سے ہٹ کر اور بے تعلق باتیں فیصلہ میں لکھ کر جماعت احمدیہ کی دل شکنی تو نہیں کی اور اسی اصل کے مطابق اس نے لکھا ہے کہ مجھے اس سے بحث نہیں ۔ یعنی میں قانوناً اس بحث میں نہیں پڑ سکتا کہ مرزا صاحب شراب پیتے تھے یا نہیں مگر یہ بات ضرور ہے کہ عدالت کو ایسے الفاظ لکھنے کی کوئی ضرورت نہ تھی ۔ مجھے چونکہ قانون اجازت نہیں دیتا کہ واقعات کی بحث میں پڑوں اس لئے میں اس بات کی صحت یا عدم صحت کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن احراری اخبار لکھتے ہیں کہ ہائی کورٹ کے حج نے تسلیم کر لیا ہے کہ مرزا صاحب شراب پیتے تھے ۔ ہاں یہ لکھا ہے کہ اُسے ضرورت نہیں کہ وہ اس بحث میں پڑے۔ ایک ہیڈ نگ یہی تھا کہ مرزا صاحب شراب پیتے تھے۔ اور بھی کئی مواقع پر اسے غلط رنگ میں پیش کیا گیا گویا پہلے ضرر کو اور بھی خطرناک کر دیا گیا ہے اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ حکومت کا وہ محکمہ جو چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب کے خلاف ہر اخبار کا ہر اقتباس حکومت تک پہنچاتا تھا وہ اس موقع پر کیوں سوتا رہا اور یہ اقتباس اس نے حکومت تک کیوں نہ پہنچائے اور اگر پہنچا دیئے تو حکومت کیوں خاموش رہی ۔ کیا اُسے نظر نہ آتا تھا کہ جس چیز کا ازالہ ہائی کورٹ نے کرنا چاہا تھا اُسے اور پختہ کیا جا رہا ہے اور ظاہر ہے کہ ان حالات کی موجودگی میں اگر جماعت احمد یہ اپنی زبان سے کچھ کہنے کی ضرورت سمجھے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی ۔ دوسری بات یہ ہے کہ حج نے تسلیم کیا ہے کہ حکومت نے سزا کی زیادتی کی درخواست نہیں کی اس لئے میں واقعات میں نہیں پڑ سکتا ۔ ہو سکتا ہے کہ ایک حج واقعات سے غلط نتائج اخذ کرے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ صحیح نتائج اخذ کرے اور ان کی صحت ، عدم صحت کے سوال کو ہائی کورٹ اسی وقت زیر بحث لاسکتا ہے جب زیادتی سزا کی درخواست ہو۔ ورنہ قانوناً اس پر بحث نہیں ہو سکتی اور یہ درخواست پبلک کی طرف سے نہیں ہوا کرتی ۔ یا تو فریقین میں سے کسی فریق کی طرف سے ہو سکتی ہے اور یا پھر حکومت کی طرف سے اور اس مقدمہ میں تو دوسرا فریق ہی حکومت تھی اس لئے ہماری طرف سے تو یہ درخواست کسی صورت