خطبات محمود (جلد 17) — Page 228
خطبات محمود ۲۲۸ سال ۱۹۳۶ء میں بھی نہ ہو سکتی تھی۔واقعات پر بحث کرانا یا تو حکومت کے ہاتھ میں تھا یا مولوی عطاء اللہ صاحب کے ہاتھ میں۔ظاہر ہے کہ مولوی عطاء اللہ صاحب کو ایسی درخواست کرنے کی کیا ضرورت تھی اس لئے ایسا سوال اُٹھانے والی صرف حکومت ہی رہ جاتی تھی اور اس نے اٹھایا نہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ حج نے لکھ دیا کہ واقعات کی صحت یا عدم صحت کے سوال میں میں نہیں جاسکتا اور اس وجہ سے مسٹر کھوسلہ کے فیصلہ کا ایک حصہ ایسا رہ گیا جو واقعات کے صحیح یا غلط ہونے سے تعلق رکھتا ہے اور اس حصہ میں سلسلہ احمدیہ اور اس کے مقدس بانی علیہ السلام پر حملے ہیں۔اب میں حکومت سے پوچھتا ہوں کہ وہ مجھے بتا دے کہ ان کا رڈ جماعت کس طرح کرے اگر اس کے رڈ کی کوئی صورت ہمارے اختیار میں تھی تو حکومت ہمیں وہ قانون بتادے جس سے ہم ایسا کر سکتے تھے۔پھر وہ کہہ سکتی ہے کہ تمہارے لئے قانون نے یہ راستہ کھولا ہوا تھا مگر تم نے اس سے فائدہ کی نہیں اُٹھایا تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔اس پر ہم اپنی غلطی کو تسلیم کر لیں گے لیکن جب صرف حکومت ہی اس سوال کو اٹھا سکتی تھی اور اس نے نہیں اٹھایا تو ذمہ داری یقیناً اس پر ہے اب وہ ہمیں بتائے کہ جو مشکل اس کی نے ہمارے لئے پیدا کر دی ہے اس کا علاج ہمارے پاس کیا ہے؟ مجھے بتایا گیا ہے کہ ایک بالا افسر نے ایک احمدی سے کہا کہ ناظر امور عامہ نے حکومت کے لیگل ریممبرر (Legal Rememberer سے کہا تھا کہ ہم سزا کی زیادتی نہیں چاہتے اس لئے ایسی درخواست نہ دیئے جانے کی ذمہ داری جماعت پر ہے۔میں یہ تو نہیں جانتا کہ ناظر امور عامہ نے ایسا کہا تھا یا نہیں اس کے متعلق میں نے کی اب تک ان سے دریافت نہیں کیا لیکن اگر یہ کہا بھی تھا تو بھی میں سمجھتا ہوں حکومت کا جواب درست نہیں۔سزا کی زیادتی نہ چاہنا اور سزا کی زیادتی کی درخواست دینے کی ضرورت نہ سمجھنا ان دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اگر ناظر صاحب امور عامہ نے یہ کہا بھی ہو کہ ہم سزا کی زیادتی نہیں چاہتے تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ ان کا یہ مطلب تھا کہ فیصلہ میں بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام پر جو الزام لگائے گئے ہیں ان کو بھی ہم دور کرانا نہیں چاہتے اور اس کی بارہ میں آپ کی ہتک کے ازالہ کی خواہش نہیں رکھتے۔کوئی عقلمند یہ باور نہیں کرسکتا کہ خانصاحب نے ایسی بات کہی ہو بلکہ کسی احمدی بچہ نے بھی یہ بات کہی ہو ہم تو اس ہتک کو دور کرانے کیلئے اپنے خون کا آخری قطرہ بہا دینے کیلئے تیار بیٹھے ہیں اور یہ خیال کرنا کہ ناظر صاحب امور عام