خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 212

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۰۳ سال ۱۹۳۶ء میرا ہاتھ وہیں گر گیا اور غصہ جاتا رہا بلکہ میں اپنے نفس میں اپنے آپ کو چھوٹا محسوس کرنے لگا کہ میں ایسی چھوٹی بات پر اسے مارنے لگا تھا ۔ پس اگر انسانی فطرت ایسے موقع پر اتنی بلند پروازی سے کام لے سکتی ہے تو وہ عظیم الشان ہستی جس کے خزانوں میں کمی نہیں ، جس کے فضلوں کی حد بندی نہیں اس کے غضب یا امتحان لینے کے موقع پر اگر انسان اپنے آپ کو اس کے آگے گرادے تو جو تبدیلی اُس کی صفات میں پیدا ہوتی ہے انسان اس کیفیت کا اندازہ ہی نہیں کر سکتا ۔ اللہ تعالیٰ کا سلوک اپنے بندوں سے جس محبت کا ہے اس کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں جنہیں اس کی محبت کا تجربہ کرنے کا موقع ملا ہو ۔ مجھے یاد ہے میں چھوٹا بچہ تھا جب میں نے رویا میں ایک چھ سات یا آٹھ برس کی عمر کا بچہ جو نہایت خوبصورت اور نہایت عمدہ سفید لباس پہنے ہوئے تھا دیکھا ۔ ساتھ ہی میں نے دیکھا کہ ایک سنگ مر مر کا چبوترہ ہے جس کے ارد گرد ایک دو سیٹرھیاں بھی ہیں وہ امرتسر کے اس چبوترے سے ملتا جلتا ہے جس پر کوئین وکٹوریا کا بت نصب ہے میں نے دیکھا کہ وہ بچہ ان سیڑھیوں پر کھڑا ہو کر چبوترے پر جھکا ہوا ہے جس طرح کوئی کسی بزرگ سے دعا اور برکت لینے کیلئے جھکتا ہے اور مجھے یوں معلوم ہوا کہ گویا آسمان پر کوئی چیز ہے جس سے وہ برکت لینا چاہتا ہے اس پر میں نے اوپر نگاہ ڈالی تو معلوم ہوا کہ آسمان پھٹ گیا ہے اور اس میں سے کوئی پروں والی چیز نیچے آرہی ہے اور مجھے خیال ہوا کہ یہ حضرت مریم ہیں اور بچہ حضرت عیسیٰ ہیں ۔ حضرت مریم ایسے رنگین لباس میں ملبوس تھیں کہ جو دنیا میں نظر نہیں آتے اور انہوں نے چبوترے پر پہنچ کر اپنے پر بچہ پر پھیلا دیئے اور جب وہ اس پر جھک گئیں تو آواز آئی کہ Love Creates Love یعنی محبت محبت پیدا کرتی ہے یعنی جب ایک طرف محبت پیدا ہوتی ہے تو دوسری طرف خود بخود ہونے لگتی ہے۔ یہ صداقت جو مجھے رویا میں دکھائی گئی تمام کا ئنات میں نظر آتی ہے اور جو حُسن مخلوق میں نظر آتا ہے کس طرح ممکن ہے کہ اس ہستی میں نہ ہو جو محبت کی خالق ہے۔ اسی کا ہم معنی ایک اور نظارہ مجھے اس وقت یاد آ گیا ہے کچھ عرصہ کی بات ہے کہ ایک مشکل مجھے پیش آئی جس کیلئے میں نے دعا کی مگر اُس کی قبولیت میں کچھ دیر ہو گئی۔ اُس وقت میں دعا نے اپنے دل میں نیت کی کہ کچھ دن میں زمین پر سوؤں گا اور اس طرح زیادہ انکسار کے ساتھ دعا کر سکوں گا اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو زیادہ سُرعت سے جذب کر سکوں گا چنانچہ میں زمین پر بستر