خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 19

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۱۰ سال ۱۹۳۶ء کہ ہم احمدیت سے نکل گئے ہیں اور جب تک اس الزام کی تردید نہیں کی جاتی ایسا کہنے والوں کے ساتھ سو سال تک بھی ہماری صلح نہیں ہو سکتی ۔ ہاں یہ میں کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمارا یہ اختلاف حکومت پنجاب کے بعض افسروں سے ہے اسے دیکھ کر بعض انگریز دوستوں کو یہ شک گزرا ہے کہ شاید جماعت حکومت برطانیہ کی ہی مخالف ہوگئی ہے لیکن یہ خیال صحیح نہیں ۔ اختلاف صرف حکومت پنجاب کے بعض افسروں سے ہے اور ان کے خلاف پروٹسٹ بغاوت نہیں کہلا سکتا ۔ اور جو شخص اس پروٹسٹ کو بغاوت قرار دیتا ہے وہ دنیا میں غلامی پھیلانا چاہتا ہے اور جو حکومت ہم سے یہ امید رکھے کہ ہم اس کے غلام ہو کر رہیں گے وہ اسے کبھی پورا ہوتے نہیں دیکھ سکے گی ۔ ہم خدا کے غلام ہیں اور کسی انسان کی غلامی کبھی کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ یہ کوئی مت خیال کرے کہ ہم تھوڑے ہیں اور کوئی حکومت ہمیں کچل سکتی یا پراگندہ کر سکتی ہے۔ ہم بے شک تھوڑے ہیں اور کمزور ہیں مگر ہمارا تعلق اُس ہستی کے ساتھ ہے جس کے ہاتھ میں تمام بڑے بڑے اور طاقتور لوگوں کی گردنیں ہیں ۔ پھر اگر میں اسلام کی اشاعت اور ترقی کو اپنی ذات سے وابستہ سمجھتا تو مجھے ڈر ہو سکتا تھا کہ حکومت مجھے پکڑ لے گی تو یہ کام کس طرح ہو گا ؟ مگر جب میں جانتا ہوں کہ میں ایک کیڑے سے بھی حقیر تر ہوں اور جو کچھ ہو رہا ہے وہ خدا خود کر رہا ہے تو پھر مجھے کیا پرواہ ہو سکتی ہے۔ اگر میں نہ رہونگا تو وہ تار جو میرے اندر کام کر رہی ہے کسی دوسرے کے ساتھ جا لگے گی ۔ پس جب تک ان لوگوں کو جنہوں نے ہم پر ظلم کئے یا تو سزا نہیں دی جاتی یا وہ معافی نہیں مانگ لیتے ہماری حکومت سے صلح نہیں ہو سکتی اور میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ غافل جماعتوں کی طرح ، ذلیل ہونے والی جماعتوں کی طرح اور تھوڑی دور چل کر تھک کر بیٹھ جانے والی جماعتوں کی طرح اس خاموشی سے یہ خیال نہ کرے کہ ان باتوں کا تصفیہ ہو چکا ہے ان کا تصفیہ نہیں ہوا اور جب بھی ایسا موقع آئے گا جب حکومت کو ہمارے تعاون کی ضرورت ہوگی اور مذہب ہمیں اختیار دیتا ہوگا کہ چاہے تعاون کریں چاہے نہ کریں ہم کہیں گے کہ ہم تعاون کرتے ہیں مگر پہلے تحقیقاتی کمیشن مقرر کیا جائے اور ان الزامات کا فیصلہ کرایا جائے ۔ یہ کوئی سیاسی سوال نہیں یہ حملہ مذہبی ہے اور ہمارے عقیدہ کے خلاف ہے۔ ہمیں افسروں کو گالیاں دینے والا اور بغاوت کرنے والا بتایا گیا ا والا ہے اور ان باتوں سے ہمارا چڑ نا بتاتا ہے کہ ان امور کے متعلق ہمارے احساسات نہایت شدید ہیں