خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 182

خطبات محمود ۱۸۲ سال ۱۹۳۶ء تیسری مثال یہ ہے کہ پرسوں اترسوں مجھے ایک ایسے دوست کی روایت پہنچی ہے جو ہماری جماعت میں شامل نہیں مگر چونکہ وہ لاہور میں ایک اعلیٰ عہدہ پر رہے ہیں اس لئے گورنمنٹ کے بعض افسروں سے ان کے اچھے تعلقات ہیں۔انہوں نے اپنے ایک احمدی دوست کو بتایا ہے کہ ایک ذمہ دار افسر نے اپنے دفتر میں یہ نوٹ کروایا ہے کہ مرزا صاحب کے دو بیٹے آئی۔سی۔ایس کے امتحان کیلئے ولایت گئے ہوئے ہیں اگر وہ پاس ہو کر آجائیں تو انہیں پنجاب میں نہ لگا یا نی جائے۔یہ خبر اگر صحیح ہے تو بتاتی ہے کہ حکومت کے افسروں کے دلوں میں ابھی تک تبدیلی پیدا نہیں ہوئی اور نچلے افسروں کے جھوٹوں کو سچ تسلیم کیا جاتا ہے۔علاوہ ازیں اس میں میرے نزدیک کئی باتیں قابل اعتراض ہیں۔الف: وہ لڑ کے ابھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور امتحان میں پاس ہی نہیں ہوئے۔پس ابھی سے یہ نوٹ کرنا کہ جب وہ پاس ہو کر آئیں تو انہیں پنجاب میں نہ رکھا جائے اور اس طرح ہے پنے بغض کا اظہار کرنا نہایت ہی گری ہوئی بات ہے۔ممکن ہے اللہ تعالیٰ ان سے نوکری کرانا ہی نہ چاہے اور ممکن ہے وہ پاس ہی نہ ہوں ہمیں اللہ تعالیٰ کی مشیت کا کیا علم ہے۔پس انہیں اُس وقت تک انتظار کرنا چاہئے تھا جب تک وہ پاس ہو کر یہاں نہ پہنچ جاتے مگر پہلے سے ہی پیش بندی کے لئے تیار ہو جانا ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کسی نے اپنے دوست سے کہا تھا میاں ! تمہاری کتیا نے سنا ہے بچے دیئے ہیں اور وہ بہت اچھے ہیں ایک بچہ ہمیں بھی دو۔وہ کہنے لگا بچے تو دیئے تھے مگر وہ مر گئے لیکن اگر وہ زندہ رہتے تب بھی میں تمہیں نہ دیتا۔وہ کہنے لگا اب تو مر چکے تھے تمہیں یہ کہنے کے کی ضرورت ہی کیا تھی کہ اگر زندہ ہوتے تب بھی نہ دیتا۔اسی طرح ابھی تو وہ موقع آیا ہی نہیں اور یہ ای ع آب دیده موزه کشیده کے مطابق پہلے ہی اس کیلئے تیاریاں کر رہے ہیں۔پس اگر یہ بات صحیح ہے تو اس افسر نے سیاستا بھی ایک بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے اور خوامخواہ دلوں کو حکومت سے پھیر نے کی کوشش کی ہے۔دوسرے یہ صحیح نہیں کہ میرے دو بیٹے ولایت آئی سی۔ایس کی تعلیم کیلئے گئے ہوئے ہیں۔جو اس غرض سے گئے ہیں وہ میرے بھتیجے ہیں۔میرا صرف ایک بیٹا انگلستان میں تعلیم پا رہا ہے مگر وہ اس نوکری کیلئے نہیں گیا بلکہ اس کی عمر بھی اسے اس عہدے کے قابل نہیں رکھتی۔پہلے میں