خطبات محمود (جلد 17) — Page 178
خطبات محمود KA سال ۱۹۳۶ء واقع ہوگئی اور میرا خیال ہے، میں نہیں جانتا وہ صحیح ہے یا نہیں کہ اس گفتگو کے نتیجہ میں ہز ایکسی لینسی نے مناسب سمجھا کہ اپنے افسروں کو یہ ہدایت کر دیں کہ یہ اثر نہیں پیدا ہونا چاہئے کہ حکومت پنجاب احمدیوں کو تکلیف دینا چاہتی ہے۔غرض حکومت میں تبدیلی شروع ہوئی اور میں نے فراخدلی سے اس تبدیلی کا اعلان کر دیا۔اگر یہ حالات قائم رہتے تو ممکن ہے وہ نا خوشگوار باتیں جو حکومت اور ا ہمارے درمیان تھیں جاتی رہتیں اور ممکن ہے ہم پھر اس مقام پر آجاتے کہ اطمینان اور سکون کے ساتھ ملک کی خدمت میں حصہ لے سکتے اور حکومت کی بھی مدد کر سکتے۔مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ت ہے کہ وہ خاموشی اور سکون زیادہ عرصہ تک قائم نہ رہا اور کئی تبدیلیاں ظہور میں آنے لگیں۔چنانچہ پہلی تبدیلی جو یکدم نظر آئی وہ یہ تھی کہ ریتی چھلہ کی زمین کے متعلق حکومت کی طرف سے مقدمہ چلا دیا گیا حالانکہ عام حالات میں جب ایک شخص کہتا ہے کہ میرا حق ہے اور دوسرا کہتا ہے کہ میرا حق کی ہے تو اس کا علاج یہی ہوا کرتا ہے کہ جس کا قبضہ ہو اُس کے خلاف دوسرا فریق مقدمہ دائر کر دیتا ہے یہی طریق یہاں اختیار کیا جانا چاہئے تھا لیکن کیا یہ گیا کہ حکومت نے اپنے خرچ سے ایک غیر معروف قانون کے ماتحت ہمارے خلاف فوجداری مقدمہ کھڑا کر دیا۔میں یہ نہیں کہتا کہ اس زمین کو ہماری قرار دیا جائے اور نہ یہ کہتا ہوں کہ ہمارے مخالف کی قرار دیا جاتا کیونکہ حق کا فیصلہ کرنا تھی عدالت کا کام ہے اور عدالت میں مقدمہ پیش ہے مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ حکومت کا یہ فعل یقینا انصاف کے خلاف تھا کہ وہ عدالت میں اپنے خرچ سے ہمارے خلاف مقدمہ کھڑا کرتی۔بے شک خاص حالات میں حکومت خاص طریق عمل کی بھی محتاج ہوتی ہے مگر یہاں وہ حالات پیدا نہ تھے۔بہر حال یہ مقدمہ عدالت میں ہے اور وہی فیصلہ کرے گی اور چونکہ قانون ہمیں اس کے متعلق کچھ کہنے سے روکتا ہے اس لئے ہم اس کے متعلق کچھ بیان نہیں کر سکتے۔ہاں مقدمہ کا چلانا ایک ایگزیکٹو عمل ہے۔ایک مجسٹریٹ بھی جب مقدمہ چلائے تو ایگزیکٹو حیثیت میں ہی چلائے گا۔جیسے ڈپٹی کمشنر جب کوئی مقدمہ پیش کرے گا تو بحیثیت ڈپٹی کمشنر پیش کرے گا لیکن جب مقدمہ سنے گا تو جی بحیثیت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سنے گا۔پس میرے نزدیک اس مقدمہ کے چلانے کی ذمہ داری حکومت کی پر ہے نہ کہ عدالت پر۔اور میرے نزدیک احسن طریق یہ تھا کہ دونوں فریق کو چھوڑ دیا جاتا کہ ان میں سے جو چاہے عدالت میں چلا جائے مگر حکومت یکدم سرکاری خرچ پر مقدمہ چلوا دیتی ہے اور ی