خطبات محمود (جلد 17) — Page 174
خطبات محمود ۱۷۴ سال ۱۹۳۶ء دے رہے۔پس اگر دستخطوں کی وباء تمام پنجاب میں پھیل جاتی تو انگریزی دبد بہ پر ایک کاری ضرب لگتی اور لوگ یہ سمجھتے کہ انگریزوں میں بھی تفرقہ ہے وہ بھی جتھہ بازی کے مرتکب ہیں اور ان کی میں بھی انصاف قائم کرنے کی روح نہیں رہی۔میں نے جب اس خبر کو سنا تو مجھے سخت رنج ہوا۔میں جانتا تھا کہ سر ہنری کر یک ایک نہایت ہی شریف انسان ہیں اور ان کا اس فعل میں دخل نہیں ہے ہو سکتا یہ صرف بعض لوگوں کی چالا کی ہے جو اس طرح اپنی مقبولیت پیدا کرنا چاہتے ہیں اس لئے کی میں نے اس خبر کے معلوم ہونے پر درد صاحب کو سر ہنری کر یک کے پاس بھیجا اور اُن کو کہلا بھیجا کہ آپ ہمارے دوست ہیں اور آپ کی مدد کرنا قدرتی طور پر ہمیں مرغوب ہے لیکن پنجاب کے بعض حلقوں میں ایک ایسا کام ہو رہا ہے جس سے آپ کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا مگر آپ کی قوم کو نی نقصان پہنچے گا کیونکہ آخر لوگوں کے دستخطوں پر تو حکومت نے گورنر کا انتخاب نہیں کرنا لیکن اس کی کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آپ کو علم بھی نہ ہوگا اور انگریزوں کا رُعب پنجاب سے مٹ جائے گا کیونکہ عوام یہ خیال کریں گے کہ انگریزوں کے بڑے بڑے آدمی بھی آپس میں لڑتے ہیں۔اگر آپ کہیں تو ہم اس تحریک کو روکیں اور اسے دبانے کی کوشش کریں۔میں جانتا تھا کہ پنجاب کے بعض لوگوں کا یہ فعل سر ہنری کریک کے منشاء کے خلاف ہے بلکہ اس کا انہیں علم بھی نہیں ہو گا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔انہوں نے کہا مجھے اس بات کا کچھ علم نہیں اور میں آپ کا احسان مند ہوں گا اگر آپ ان لوگوں کا مقابلہ کریں اور انہیں روکیں۔چنانچہ مختلف جگہوں پر ہم نے آدمی مقرر کئے اور انہوں نے لوگوں کو سمجھایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ تحریک دب گئی کیونکہ عموماً ایسی تحریکات چلانے والے کمزور دل کے لوگ ہوا کرتے ہیں اور جونہی انہیں معلوم ہو کہ ان کا راز فاش ہونے والا ہے وہ دب جاتے ہیں۔یہ واقعہ ہے جو ہوا۔اس کے ہوتے ہوئے میں یہ کسی طرح تسلیم نہیں کر سکتا کہ ہز ایکسی لینسی گورنر کی پنجاب پر اس بات کا کوئی اثر ہو یہ بالکل بچوں کی سی بات ہے اور خطبہ میں میں نے اس لئے اس واقعہ کا ذکر کر دیا ہے کہ سر ہنری کریک بھی اس واقعہ کو پڑھ لیں اور گواہ رہیں کہ میں نے اس واقعہ کو صحیح طور پر پیش کیا ہے۔مجھے یقین ہے کہ درد صاحب نے مجھے جو کچھ آکر بتایا اُس میں کوئی غلطی نہ تھی ممکن ہے جو لوگ سر ہنری کریک کی تائید میں دستخط کر رہے تھے انہوں نے جب دیکھا ہو کہ ان کی سازش کا راز کی۔