خطبات محمود (جلد 17) — Page 166
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۱۵۷ سال ۱۹۳۶ء وہ اس خون کا بدلہ نہیں لیتی جو دل سے بہایا جاتا ہے۔ اب اس دکھ کی ساعت میں جب کہ خدا تعالیٰ ہمیں خود بدلہ لینے سے منع کرتا ہے ہم اس کے سوا کیا کر سکتے ہیں کہ اُس کے حضور میں گر جائیں اور اپنے آنسوؤں سے اپنی سجدہ گاہ کو تر کر دیں اور التجا کریں کہ اے ہمارے خدا! اے ہمارے آقا! اے بے کسوں کے والی ! اے مظلوموں کے حامی ! تیری یہ دنیا ظلم اور جور سے ناپاک ہو گئی ہے اپنے فرشتوں کو بھیج کہ توبہ کے پانی یا عذاب کی آگ سے اس کو پاک کریں کہ اب اس دنیا میں ایک ایک دن کی رہائش ہمارے لئے عذاب ہے۔ تیرا وعدہ تھا کہ تو اسے ہمارے لئے جنت بنائے گا۔ اے سچے وعدوں والے! تیری رحمت کا دامن پکڑ کر تجھے تیرے ہی جلال کی قسم دیتے ہوئے ہم تجھ سے ہی التجاء کرتے ہیں کہ ہمارے زخمی دلوں پر ہمدردی کا مرہم لگا اور اس دنیا کو جو ہمارے لئے خاردار جنگل بن گئی ہے اپنی محبت کا گلزار بنادے اور ہمیں وہ تقویٰ بخش جس سے تیرا نہ ختم ہونے والا وصال ہمیں حاصل ہو ، اور وہ ہمت بخش کہ جس سے تیرے روٹھے ہوئے بندوں کو ہم منا کر واپس لائیں ۔ اے آقا ! تجھ میں سب طاقتیں ہیں اور ہم میں کچھ بھی نہیں ۔ پھر تیرا در نہ کھٹکھٹائیں تو کہاں جائیں ۔ تجھ سے نہ مانگیں تو رکس سے مانگیں ۔ رحم کر، رحم کر ، رحم کر کہ تو ارحم الرَّاحِمِينَ ہے اور ہم تیرے دروازے کے ابدی بھکاری ہیں ۔ آمِينَ يَا رَبَّ الْعَلَمِينَ ۔“ ( الفضل ۲۷ مارچ ۱۹۳۶ء) ے سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۱۶ مطبوعہ مصر ۱۲۹۵ھ السيرة الحلبيه جلد ۲ صفحه ۳۳۴ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا (الاحزاب : (۱۲) 66