خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 150

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء سے سخت زمین پھسلنی ہوگئی اور ریتلی جگہ ٹھوس بن گئی۔وہی زمین جو دھوپ میں سخت اور آرام دہ ہے تھی بارش کے بعد پھسلنی ہوگئی اور ریتلی بارش کے بعد مضبوط ہوگئی پھر ادھر سے اللہ تعالیٰ نے آندھی چلا دی جس طرف مسلمانوں کی پیٹھیں تھیں اس وجہ سے گردو غبار اور کنکر کفار کی آنکھوں میں پڑتے تھے اور ان کے زور سے چلائے ہوئے تیر بھی مسلمانوں تک نہ پہنچتے تھے مگر مسلمانوں کا کمزوری سے کمزور تیر بھی ان تک جا پہنچتا تھا۔مسلمان دشمن کو دیکھتے تھے مگر وہ انہیں بوجہ آنکھوں میں گردوغبار پڑنے کے اچھی طرح نہ دیکھ سکتے تھے۔یہ سب سامان اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ورنہ نہ بادل انسان کے اختیار میں ہیں اور نہ ہوا ئیں بندہ کے قبضہ میں۔اسی طرح جنگِ احزاب کے موقع پر جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے منافق مدینہ کی گلیوں میں یہ کہتے تھے کہ یہ مسلمان تو کہا کرتے تھے کہ دنیا کی بادشاہت ہمیں مل جائے گی آج ان کی عورتوں کیلئے پاخانہ پھرنے کی جگہ بھی نہیں رہی۔کہاں گئے ان کے وہ دعاوی۔اس جنگ میں دس ہزار کفار کا لشکر مسلمانوں کے مقابل پر تھا اور سارے عرب قبائل جمع ہو کر آئے تھے اُدھر یہودیوں نے مدینہ میں بغاوت کر دی تھی اُس وقت سوائے اس کے کہ مسلمان خندق بنا لیتے ان کے بچاؤ کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔چنانچہ حضرت سلمان فارسی کے مشورہ سے رسول کریم ہے نے صحابہ کو حکم دیا کہ خندق کھو دیں اور جب وہ خندق کھودرہے تھے تو ایک پتھر ایسا آیا جو ٹوٹنے میں نہ آتا تھا۔رسول کریم ﷺ کو اطلاع دی گئی آپ وہاں تشریف لائے اور جب زور سے کدال مارا تو پتھر میں سے آگ نکلی اور آپ نے زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا صحابہ نے بھی نعرہ لگایا۔پھر کدال ما را تو پھر آگ نکلی اور آپ نے پھر نعرہ تکبیر بلند کیا اور صحابہ نے بھی آپ کی تقلید کی۔تیسری دفعہ کدال مارا تو پھر آگ نکلی اور آپ نے پھر زور سے اللہ اکبر کہا اور صحابہ نے بھی ایسا ہی کیا۔جب وہ پتھر ٹوٹ گیا تو آپ نے صحابہ سے دریافت کیا کہ تم نے نعرے کیوں لگائے ہیں ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ آپ نے لگائے تھے اس لئے ہم نے بھی لگائے۔آپ نے فرمایا ہاں میں نے تین بار نعرہ کی تکبیر بلند کیا جس کی وجہ یہ تھی کہ جب پہلی دفعہ پتھر میں سے آگ نکلی تو میں نے اُس شعلہ میں یہ نظارہ دیکھا کہ مسلمانوں کے ہاتھوں قیصر کے قلعے تباہ ہو گئے ہیں۔دوسرے شعلہ میں مجھے کسری کے قلعوں کی تباہی کا نظارہ دکھائی دیا اور تیسرے میں حمیر کے قلعے بھی سرنگوں نظر آئے ہے۔اُس