خطبات محمود (جلد 17) — Page 15
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ سال ۱۹۳۶ء گزشتہ سال کی نسبت زیادہ ہے مگر اس لحاظ سے کمی ہے کہ گزشتہ سال اس وقت تک جتنی جماعتیں اس میں حصہ لے چکی تھیں اُتنی جماعتوں نے اس سال نہیں لیا۔ معلوم نہیں یہ ان کے عہد یداروں کی سستی یا غفلت کی وجہ سے ہے یا کسی اور وجہ سے ۔ جس تاریخ تک گزشتہ سال ساٹھ ہزار روپیہ بصورت نقد و وعدوں کے آیا تھا اس سال اسی تاریخ تک اسی ہزار آیا ہے اور بعض وعدے مجمل ہیں ان کو ملا کر پچاسی ہزار کے قریب رقم ہو جاتی ہے مگر حصہ لینے والی جماعتوں کی تعداد کے لحاظ سے اس سال کمی ہے۔ پس دوست اس طرف بھی توجہ کریں اور زندگیاں وقف کرنے کی طرف بھی ۔ اور کوشش کریں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کی تشریح کے ساتھ اسلام کی تعلیم کو ساری دنیا میں پہنچا دیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ میں نے ہندوستان میں تبلیغ کی جو سکیم بنائی ہے اور جس کے ماتحت دوستوں کو ایک ایک، دو دو یا تین تین ماہ وقف کرنے کی تحریک کی ہے اس پر زور دیا جائے ۔ ہر جماعت اپنے ہاں جلسہ کر کے ان لوگوں کی ایک لسٹ مجھے بھجوائے جس میں درج ہو کہ کون کون دوست کتنے کتنے عرصہ کیلئے اور رکن مہینوں میں اس میں حصہ لینے کیلئے تیار ہیں ۔ پچھلے سال کی طرح ایسی اطلاع بھجوانا افراد کے ذمہ نہ سمجھا جائے بلکہ ہر جماعت اس کی فہرست مجھے بھیجوائے جس طرح چندہ کی لسٹیں بھیجی جاتی ہیں۔ احمد یت اس وقت صحیح اسلام ہے اور اس لحاظ سے قادیان اسلام کی اشاعت کا مرکز ہے جو مکہ اور مدینہ کے تابع ہے۔ پس اسلامی اشاعت کے اس مرکز کے ارد گر د احمدیت کی ترقی ضروری ہے اور ساری جماعت کے افراد کو بعینہ اسی طرح جس طرح تنور میں ایندھن جھونکا جاتا ہے اس میں حصہ لینا چاہئے ۔ دنیا میں سے ہندوستان ، ہندوستان میں سے پنجاب اور پنجاب میں سے ضلع ورداسپور میں احمدیت کی ترقی اور مضبوطی نہایت ضروری ہے اور پھر ضلع گورداسپور کے ارد گرد ضلع ہوشیار پور، امرتسر، سیالکوٹ اور جالندھر کے اضلاع میں احمدیت کو مضبوط کرنا ضروری ہے اور اس کے لئے میں امید کرتا ہوں کہ قادیان کی جماعت بھی محلہ وار اور باہر کی جماعتیں بھی اس قسم کی فہرستیں جلد از جلد مجھے بھجوا دیں گی ۔ یہ لسٹیں مجھے زیادہ سے زیادہ یکم اپریل تک مل جانی چاہئیں ۔ ہاں جو دوست انفرادی طور پر اپنے نام دینا چاہیں وہ جلد بھیج دیں کیونکہ نیکی