خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 149

خطبات محمود ۱۴۹ سال ۱۹۳۶ء ارادہ سے آئے کہ محمد ہے اور اس کے صحابہ کو آج ان کے بلند و بالا دعاوی کی وجہ سے پوری طرح سزا دے کر جائیں گے۔جس وقت اُن کے مقابلہ میں وہ ۳۱۳ لوگ جن میں سے بعض تلوار چلانا بھی نہ جانتے تھے، کئی ایسے تھے جن کے پاس تلوار میں تھی ہی نہیں ، جن میں سے اکثر کے پاس سواریاں بھی نہ تھیں ، کھڑے ہوئے تو ظاہری نگاہ میں اُن کا یہ فعل مضحکہ خیز تھا اور کہنے والوں نے کی کہہ بھی دیا کہ جاؤ اپنے گھروں کو چلے جاؤ تم ہمارے بھائی ہو اور ہم اپنے بھائیوں کے خون سے کی صلى الله زمین کو رنگنا نہیں چاہتے لیکن دوسری طرف ان تیز نظر لوگوں نے جو گو اسلام سے محروم تھے مگر ظاہری عقل سے حصہ وافر رکھتے تھے اندازہ کر لیا تھا کہ یہ معمولی لوگ نہیں ہیں۔اہل عرب نے اپنے ایک نی تجربہ کار جرنیل کو اسلامی سپاہ کا جائزہ لینے کیلئے بھیجا اُس نے واپس آکر اُن کو جو جواب دیا وہ بتا تا ہی ہے کہ وہ شخص بہت گہری نظر والا تھا اُس نے آکر کہا کہ آدمی تو ان کے تین سو کے لگ بھگ ہیں لیکن اے قوم کے سردارو! میں تمہیں مشورہ دیتا ہوں کہ ان سے لڑائی نہ کرو کیونکہ میں نے گھوڑوں پر تھی آدمی نہیں بلکہ موتیں سوار دیکھی ہیں۔مجھے ان کے چہروں سے نظر آتا ہے کہ یا تو وہ ہمارے خون سے آج اس میدان کو رنگ دیں گے اور یا ایک ایک کر کے محمد ( ﷺ ) پر جان دے دیں گے۔اگر تم ہر گھر میں ماتم بپاد یکھنا نہیں چاہتے تو آج واپس چلے جاؤ ورنہ یہ خیال مت کرو کہ مسلمان پیٹھ دکھا کر بھاگ جائیں گے۔یہ مقابلہ بھی ایک ظاہر بین نگاہ کیلئے اُسی طرح مضحکہ خیز تھا جیسے اُحد کا ، اُس دن منافقوں نے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ اگر ہم جانتے کہ لڑائی ہو گی تو ضرور جاتے مگر یہ تو صریحاً بیوقوفی کی بات تھی۔گجا مکہ کے تجربہ کار اور بہادر اور گجا یہ تھوڑے سے سپاہی۔بدر کی جنگ دنیا داروں کی نگاہ میں اس سے بھی زیادہ غیر مساوی مقابلہ کی تھی اور اس لئے اُن کی نگاہ میں مضحکہ خیز لیکن اُس کی دن بھی واقعات نے بتادیا کہ انسانی تدابیر جہاں جاکر رہ جاتی ہیں وہاں الہی نصرت غیر معمولی سامان کامیابیوں کے پیدا کر دیتی ہے۔مکہ والوں نے جلدی کر کے اُس جگہ پر قابو پالیا جو ان کے کی نزدیک لڑائی کیلئے زیادہ مفید ہوسکتی تھی۔وہ زمین مضبوط تھی جس پر پاؤں زیادہ مضبوطی سے رکھا جاسکتا تھا مگر مسلمانوں کیلئے جو جگہ خالی تھی وہ ریتلی تھی جس میں عام حالات میں قدم جمانا مشکل تھا مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دئیے جنہوں نے حالات کو بالکل بدل دیا۔بادل بر سے جس