خطبات محمود (جلد 17) — Page 141
خطبات محمود ۱۴۱ سال ۱۹۳۶ء انہوں نے کہا دیکھو! دو شخص لڑتے ہوئے میرے پاس آئیں گے فرض کرو ایک شخص کہے گا اس نے میرے سو روپے دینے ہیں مگر دیتا نہیں دوسرا کہے گا کہ میں نے اس کے کوئی روپے نہیں دینے۔اب جو کہتا ہے کہ اس نے میرے سو روپے دینے ہیں وہ بھی جانتا ہے کہ اُس نے روپے دینے ہیں یا نہیں اور جو کہتا ہے کہ میں نے روپے نہیں دینے وہ بھی جانتا ہے کہ اُس نے روپے دینے ہیں یا دے دیئے ہیں مگر میں ان کا فیصلہ کرنے بیٹھوں گا حالانکہ نہ مجھے یہ پتہ ہوگا کہ اس نے روپے دینے ہیں یا نہیں اور نہ یہ پتہ ہوگا کہ دوسرے نے روپے لینے ہیں یا نہیں گویا میں دو سو جا کھوں میں اندھا ہوں گا۔وہ دونوں جانتے ہوں گے کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا اور مجھے نہ یہ پتہ ہوگا کہ سچ کیا ہے اور نہ یہ پتہ ہوگا کہ جھوٹ کیا ؟ لیکن فیصلہ میں کروں گا۔تو قضاء کا عہدہ معمولی عہدہ نہیں۔اگر کوئی شخص سچے دل سے قضاء کے فرائض سر انجام دیتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے عظیم الشان فضلوں کا وارث کی ہو جاتا ہے کیونکہ دنیا میں انصاف قائم کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔جس شخص کو قضاء کا عہدہ ملتا ہے کیلئے فوراً دو کھڑکیاں کھل جاتی ہیں ایک جہنم کی طرف سے اور ایک جنت کی طرف سے اور اس کے یہ اپنے اختیار میں ہوتا ہے کہ چاہے تو وہ جہنم میں چلا جائے اور چاہے تو جنت کا وارث بن جائے۔اگر وہ انصاف سے کام نہیں لیتا ، بڑوں کی رعایت کرتا ہے، جلدی جوش میں آجاتا ہے اور حقیقت معلوم کرنے کی پوری کوشش نہیں کرتا تو جہنم اس کے قریب ہو جاتی ہے اور اگر وہ انصاف کی سے کام لیتا ہے، بڑوں کا لحاظ نہیں کرتا، چھوٹوں کی حق تلفی نہیں کرتا اور جلد بازی سے کام نہیں لیتا بلکہ پورا غور کرنے کے بعد فیصلہ کرتا ہے تو جنت اُس کے قریب ہو جاتی ہے اور باوجود اور ہزاروں قسم کی کمزوریوں کے وہ جنت کا مستحق سمجھا جاتا اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث ہو جاتا ہے۔پس میں قاضیوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ دلیر ، منصف اور عادل بنے کی کوشش کریں اور کسی انسان سے نہ ڈریں بلکہ خدا تعالیٰ سے ڈریں۔قاضی ہونے کی صورت میں ان کا تعلق براہِ راست خدا تعالیٰ سے ہو جاتا ہے اور کوئی علاقہ درمیان میں نہیں ہوتا۔پس انہیں صرف خدا تعالی کی ذات پر اپنی نگاہ رکھنی چاہئے اور اگر دنیا کے سارے افسر، دنیا کے سارے حکام اور دنیا کے سارے بادشاہ مل کر بھی ان کے مخالف ہو جائیں تو وہ وہی کریں جو انصاف ہو اور کسی کا ڈر اپنے دل میں پیدا نہ ہونے دیں مگر یہ شرط ہے کہ وہ قانون کے اندر رہتے ہوئے انصاف کریں۔