خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 14

خطبات محمود ۱۴ ☑ سال ۱۹۳۶ء تحریک جدید کے مزید مطالبات (فرموده ۱۰/جنوری ۱۹۳۶ء) تشہد ،تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں جلسہ سالانہ سے پہلے تحریک جدید کے متعلق بعض خطبات دے رہا تھا اور چونکہ ابھی اس تحریک میں سے بعض باتیں باقی ہیں اس لئے ان کے متعلق میں آج پھر کچھ کہنا چاہتا ہوں۔یہ تحریک میں پہلے کر چکا ہوں کہ نوجوان اپنی زندگیاں وقف کریں۔اس غرض کیلئے کہ ان میں سے بعض کو انتخاب کرنے کے بعد باہر تبلیغ کیلئے بھیجا جائے مگر اس کے علاوہ میری تحریک کا ایک حصہ یہ تھا کہ ایسے بیکار لوگ جن کو اس ملک میں کام نہیں ملتا اگر باہر چلے جائیں تو بیرونی ممالک میں اپنے لئے ترقی کا راستہ نکال سکتے اور سلسلہ کیلئے بھی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔جیسا کہ کہتے ہیں ہم خرما و ہم ثواب اسلام نے در حقیقت ملکوں کے فرق اور امتیاز کو ایسا مٹا دیا ہے اور دنیا کو اس طرح ایک ہاتھ پر جمع کر دیا ہے کہ ہمارے لئے مختلف ممالک کی حیثیت ہی کوئی باقی نہیں رہی اور ساری دنیا ہمارے لئے ایک ملک کی طرح بن گئی ہے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا لے۔ساری دنیا میرے لئے مسجد بنادی گئی ہے اس کے یہ بھی معنی ای ہیں کہ اسلام میں اگر جوں اور مندروں کا طریق نہیں ہر جگہ انسان عبادت کر سکتا ہے۔مسجد صرف اجتماع کی جگہ ہے ورنہ مساجد عبادت کیلئے مخصوص نہیں اور یہ نہیں کہ مسجد سے باہر عبادت نہیں ہو سکتی جیسا کہ ہندوؤں اور عیسائیوں میں طریق ہے کہ ان کے نزدیک مندروں اور اگر جوں سے باہر