خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 134

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۱۲۵ سال ۱۹۳۶ء ہو خواہ پہاڑوں میں ، خواہ گاؤں میں ہو خواہ شہروں میں اور جو لوگ دنیا کے مختلف حصوں میں رہتے ہیں وہ اپنے اپنے طور پر ان احکام کو اگر پورا کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں اور کرتے رہتے ہیں ۔ مثلاً نماز کا حکم ہے یا روزہ رکھنے کا حکم ہے یا صدقہ و خیرات دینے کا حکم ہے ان احکام پر جہاں جہاں کوئی مسلمان ہو گا عمل کرے گا اور وہ اپنے لئے ان احکام پر عمل کرنے کی کوئی راہ تلاش کر لے گا جس میں اسے کوئی دقت پیش نہیں آئے گی لیکن قرآن کریم کے وہ احکام جو نظام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں وہ نظام کے ذریعہ ہی پورے ہو سکتے ہیں اس کے بغیر نہیں ۔ مثلاً زکوۃ ہے اگر دنیا میں کوئی اسلامی حکومت نہیں یا حکومت اسلامی کی عدم موجودگی کے بعد مسلمانوں میں کوئی نظام بھی موجود نہیں تو زکوۃ کا فریضہ صحیح معنوں میں ادا نہیں ہو سکتا کیونکہ زکوۃ کے متعلق اسلامی تعلیم یہ ہے کہ وہ ایک جگہ جمع ہونی چاہئے اور پھر عقل کے ساتھ اسے مقررہ مواقع پر خرچ کرنا چاہئے ۔ یا مثلاً مسلمانوں کی تعلیم کو ایک سطح پر لانے کا سوال ہے یہ افراد کے ذریعہ نہیں ہو سکتا کیونکہ کوئی کسی رنگ کی تعلیم حاصل کرتا ہے اور کوئی کسی رنگ کی کوئی زیادہ تعلیم حاصل کرتا ہے کوئی کم اور اس طرح ایک سطح پر وہ اپنے آپ کو نہیں لا سکتے ۔ یا مثلاً جہاد ہے اگر جہاد کی کسی وقت ضرورت پیش آجائے اور کوئی حکومت ظالمانہ طور پر مسلمانوں کو اس لئے قتل کرنا شروع کر دے کہ وہ کیوں مسلمان ہیں اور تلوار کے زور سے ان کا مذہب تبدیل کر کے انہیں اسلام سے منحرف کرنا چاہے تو ایسے موقع پر اور صرف ایسے موقع پر جہاد بالسیف جائز ہے مگر یہ حکم بغیر نظام کے پورا نہیں ہو سکتا۔ میں ضمنی طور پر صرف ایسے موقع جہاد جائزہ یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ یہ مسلمانوں کی سخت غلطی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں جہاد کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی کافر ملے اسے مار ڈالو۔ اگر کافروں کو مارنا ہی جہاد ہے تو پھر اسلام میں ہم کس کو داخل کریں گے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کافر کو اسلام مارنا نہیں چاہتا بلکہ اسے محبت کا قیدی بنانا چاہتا ہے کیونکہ اسلام دنیا میں ہلاکت بر پا کرنے کیلئے نہیں آیا بلکہ لوگوں کو زندگی دینے کیلئے آیا ہے۔ مسکت میں پس جہاد کے یہ معنی نہیں کہ غیر مسلم کا سرکاٹ دیا جائے بلکہ جو شخص بلا وجہ کسی غیر مسلم کا سر کاٹتا اور اُسے قتل کرتا ہے اسلام اُسے قاتل اور جہنمی سمجھتا ہے۔ جہا د پالسیف صرف اُس وقت جائز ہوتا ہے جب کوئی قوم مسلمانوں پر اس وجہ سے حملہ آور ہو کہ کیوں انہوں نے اسلام قبول کیا اور بزور شمشیر انہیں مذہب سے منحرف کرنا چاہے اگر اس طریق کی اجازت دی جائے اور اس کا