خطبات محمود (جلد 17) — Page 132
خطبات محمود ۱۳۲ سال ۱۹۳۶ء اسی طرح بے شک اسلام ہم کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ اگر کوئی شخص عَلَى الْإِعْلان بدکاری کا ارتکاب کرے تو اُسے ہم سنگسار کر دیں بلکہ وہ اسے اسلامی حکومت کا فرض قرار دیتا ہے کی اور اس لئے اگر کوئی بدکاری کا عَلَی الْإغلان ارتکاب کرے گا تو ہم اسے سنگسار نہیں کریں گے مگر جو تمدنی دباؤ ہے اس کے ذریعہ ہم قومی اخلاق کی درستی کر سکتے ہیں کیونکہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔اسی طرح اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اگر کوئی شخص قتل کرے تو اسے سزا کے طور پر قتل کر دیا جائے بلکہ وہ اسے اسلامی حکومت کا اختیار قرار دیتا ہے۔پس اگر کوئی قتل کرے تو ہم یقینا اسے قتل نہیں کریں گے لیکن اسلام اس بات کا اختیار ہمیں دیتا ہے کہ اگر کوئی قتل کرے تو اُس پر تمدنی دباؤ ڈالا جائے تا اُس کی اصلاح ہو۔پس ہم تمدنی طور پر اس سے متنفر کا اظہار کر دیں تا اس کے دل میں ندامت پیدا ہو اور وہ اس بُرے فعل کا دوبارہ ارتکاب نہ کرے۔اگر یہ طریق اختیار نہ کی کیا جائے تو کیا اس وجہ سے کہ اسلام قاتل کو بذات خود قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہم قاتل۔بڑھ کر مصافحہ کریں گے یا اُس سے پیار کرنے لگیں گے؟ یا کیا اس وجہ سے کہ اسلام ہمیں اجازت نہیں دیتا کہ ہم چور کا ہاتھ کاٹ دیں ہم چور کو چوری کرنے کے بعد شاباش دیں گے اور کہیں گے کی کہ تُو نے کیسا اچھا کام کیا ؟ یا کیا اس وجہ سے کہ اسلام یہ اجازت نہیں دیتا کہ دنیا میں جو محبہ خانے ہیں انہیں خود بخو در گرا دیا جائے ہم کنچنیوں کا گانا جا جا کر سنیں گے؟ ایک جگہ اسلام اگر ہمارے ہاتھ روکتا ہے تو دوسری جگہ ہمیں اختیار بھی دیتا ہے کہ ہم اسے استعمال کریں۔یہی وہ طریق ہے جسے شروع خلافت سے میں نے اپنے مدنظر رکھا اور میں نے بار بار سمجھایا ہے کہ اسلامی عمارت کو مکمل کرنا اور اسے مغربی اثرات سے بچانا ہمارا فرض ہے مگر مجھے افسوس ہے کہ باوجود اس کے کہ اسلام میں ہر بیماری کا علاج موجود ہے آجکل کے مسلمان اسلامی احکام سے اتنے جاہل اور ناواقف ہو گئے ہیں کہ جب بھی وہ کوئی طریق اختیار کریں گے غیر اسلامی ہوگا حالانکہ اسلام میں وہ تمام طریق موجود ہیں جن پر کار بند ہو کر انسان اپنے حقوق کو حاصل کر سکتا اور دوسروں کے ظلم سے بچ سکتا ہے اور کسی غیر اسلامی طریق کے اختیار کرنے کی ہمیں ضرورت نہیں۔