خطبات محمود (جلد 17) — Page 131
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء کے قیام کیلئے تبلیغی اور پُر امن ذرائع اختیار کرتا ہوں اور وہ کہتے ہیں کہ اس کے قائم کرنے کا طریق مار پیٹ اور جبر و تشدد ہے۔بہر حال یہ خواہش تو جب پوری ہوگی ہوگی اور یقیناً ایک دن پوری ہوگی دنیا کی مخالفتیں اور دشمنوں کی روکیں مل کر بھی اس میں حائل نہیں ہو سکتیں۔چنانچہ ایک دفعہ رویا میں میں نے اس مسجد کو جس میں میں اس وقت خطبہ پڑھ رہا ہوں (مسجد اقصیٰ ) دیکھا کہ میں یہاں ممبر پر کھڑا ہوں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ وائسرائے آئے ہیں کیونکہ ہمارے بادشاہ یہاں آنے والے ہیں اور وہ ان کی آمد سے پہلے انتظام دیکھنا چاہتے ہیں کی چونکہ پروگرام یہ ہے کہ بادشاہ یہاں کے مقدس مقامات دیکھیں گے اور مسجد کو بھی دیکھیں گے اس لئے وائسرائے دیکھ رہے ہیں کہ آیا تمام انتظام مکمل ہے یا نہیں ؟ اُس وقت میں نے دیکھا کہ مسجد اتنی وسیع ہے کہ اس کا آخری کنارہ مشکل سے نظر آتا ہے اور سینکڑوں فوجی سپاہی پریڈ کے طور پر ی کھڑے ہیں مگر وہ اتنی دور ہیں کہ ان کی شکلیں پہچانی نہیں جاتیں۔پھر میں نے دیکھا کہ وائسرائے مسجد میں داخل ہوئے ہیں اور وہ تمام انتظام کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے پھر دوسرے کی مقدس مقامات دیکھنے کیلئے چلے گئے ہیں۔تو یہ چیزیں آخر ہو کر رہیں گی اور کسی کے مثانے یا نہ مٹانے کا سوال ہی نہیں۔جس چیز کا خدا تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے وہ آخر ہو کر رہے گی چاہے اس پر ی عیسائی بُرا منائیں چاہے موسائی بُرا منائیں، چاہے ہندو بُرا منائیں، چاہے سکھ بُرا منائیں یہ خدا تعالی کی قضاء ہے کہ دنیا میں اسلامی حکومت قائم کی جائے گی اور جو چیز ایک دن ہونے والی ہو اُسے ہم نے چھپانا کیا ہے اور اس پر اگر کوئی بُرا مناتا ہے تو ہم اس کا علاج کیا کر سکتے ہیں ، مگر جب تک وہ زمانہ نہیں آتا اُس وقت تک ہمارا فرض ہے کہ جن باتوں میں حکومت ہمیں اختیار دیتی ہے ان میں اسلامی حکومت کی طرز پر تمام باتیں جاری کریں۔بے شک اسلام یہ اجازت نہیں دیتا کہ ہم عادی چور کا ہاتھ کاٹ دیں بلکہ وہ اسے اسلامی حکومت کا فرض قرار دیتا ہے مگر اسلام یہ اجازت تو دیتا ہے کہ چور پر تمدنی دباؤ ڈال کر اسے چوری کی عادت سے باز رکھنے کی کوشش کی جائے۔پس اگر کوئی چوری کرے گا تو ہم اُس کے ہاتھ نہیں کاٹیں گے لیکن ہم اس پر تمدنی دباؤ ضرور ڈالیں گے تا اس کی اصلاح ہو جائے اور وہ آئندہ چوری کا ارتکاب نہ کرے۔