خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 112

خطبات محمود ۱۱۲ سال ۱۹۳۶ء میں بے شک یہ بھی ایک اصل ہے کیونکہ اگر ہتھیار کو ظاہری ہتھیار اور لڑائی کو روحانی لڑائی سمجھ لیں کی تو بے شک یہ بھی درست ہوسکتا ہے لیکن اگر دونوں پہلو ظاہر پر مبنی سمجھے جائیں تو یہ بالکل بے معنی ہے مگر میں نے بتایا ہے کہ شاعر کی دنیا بالکل اور ہوتی ہے۔مغلوں کا مشہور بادشاہ تیمور جب ایران کو فتح کرتا ہوا شیراز میں پہنچا جو حافظ کا جو مشہور صوفی اور شاعر تھے وطن ہے تو کسی نے اُس سے ذکر کیا کہ یہاں کے ایک شاعر نے لکھا ہے اگر آں ترک شیرازی بدست آرد دل ما را بخال هندوش بخشم سمرقند و بخارا را یعنی اگر وہ میرا معشوق میرے دل کو اپنے قبضہ میں لے لے اور مجھ سے تعلق قائم کرلے تو میں اس کے رُخ سیاہ تل کے عوض سمر قند و بخارا بخش دوں۔سمرقند و بخارا تیمور کا وطن تھا اُس نے یہ شعر سن کر کہا کہ میں نے تو سمرقند و بخارا کیلئے دنیا کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک قتل عام کیا ہے مگر یہ اپنے معشوق کے سیاہ تل کے عوض اسے دینے کیلئے تیار ہے۔لیکن میں نے کہا ہے کہ شاعر کی دنیا اور ہے اور کہتے ہیں کہ تیمور کو بھی اس شاعر کے مقابلہ میں نیچا ہی دیکھنا پڑا اور اُس نے حافظ کو انعام و اکرام دے کر رخصت کیا۔مگر ہم جس دنیا سے تعلق رکھتے ہیں وہ حقیقت کی دنیا ہے اور یہاں ہر ایک کیلئے ہتھیار کی ضرورت ہے جو اس کے دشمن کے ہتھیار سے زیادہ تیز ، تعداد میں زیادہ اور زیادہ کارآمد ہونا چاہئے۔کوئی زمانہ تھا کہ لوگ غلیل استعمال کرتے تھے، پھر تیر ایجاد ہوئے جنہوں نے غلیل اور غلے کو پس پشت ڈال دیا اور وہ قو میں جیتنے لگیں جو تیر انداز تھیں۔پھر تیراندازی میں ترقی ہوئی تو توی دنیا میں منجنیقیں ایجاد ہوئیں جو پتھراؤ کر کے قلعوں کو گرا دیتی تھیں نیزے قلعوں کے مقابل میں ناکام رہتے تھے لیکن منجنیقوں نے قلعوں کو گرانے کا راستہ کھول دیا، پھر بارو د نکلا اس سے اس بارہ میں زیادہ کامیابی حاصل ہوئی۔کبھی لوگ چھڑے کی زرہ پہنتے تھے اور کمزور بازوؤں والے تیراندازوں کے تیروں سے محفوظ رہتے تھے لیکن پھر لوہے کی زرہ نکلی اور اس سے زیادہ خطر ناک کی ہتھیاروں سے حفاظت کا سامان پیدا ہو گیا، پھر تو پوں کا زمانہ آ گیا اور انہوں نے منجنیقوں کی طاقت کو توڑ دیا اور اگر پہلے قلعہ کے نیچے جا کر دیواروں کے نیچے بارود رکھ کر اسے اُڑا دیا جاتا تھا تو کی