خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 11

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ سال ۱۹۳۶ء کہ ناپسندیدہ نہیں سمجھتا بلکہ جماعت کے اندر قربانی اور اس کی قدر کا جذبہ پیدا کرنے کیلئے ان کو مفید سمجھتا ہوں لیکن ہر چیز خواہ کتنی مفید کیوں نہ ہو اُس کیلئے بعض قواعد ہوتے ہیں جن کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔ اس پارٹی کے متعلق جب مجھ سے دریافت کیا گیا تو منتظمین کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے کہہ دیا کہ تین جنوری کو صبح یا شام جو وقت بھی مقرر ہو جائے میں آجاؤں گا ۔ میرا مطلب یہ تھا کہ صبح کی یا شام کی میں قید نہیں لگاتا جس وقت بھی سہولت ہو کر لی جائے۔ لیکن اس کا یہ مطلب کوئی عقلمند بھی نہیں سمجھ سکتا تھا کہ میں اُس دن صبح سے شام تک تمام کام چھوڑ کر بیٹھا رہوں گا کہ وہ جب چاہیں بلا لیں۔ منتظمین کیلئے مناسب تھا کہ وہ صبح کا یا شام کا کوئی وقت مقرر ملتا تو دو کر کے مجھے اطلاع دے دیتے ۔ یہ گفتگو یکم کو ہوئی تھی اور اس کا جواب مجھے اگر دیر سے بھی ملتان کی صبح کو مل جانا چاہئے تھا۔ دو تاریخ کو جلسہ کے انتظام کے متعلق رپورٹیں وغیرہ پڑھنے کیلئے مردوں کا اجتماع ہوا اور اُس دن چونکہ سید ناصر شاہ صاحب کی وفات ہوگئی اس لئے دوسرا یعنی عورتوں کا اجلاس نہ ہو سکا اور زنانہ انتظام کے متعلق رپورٹوں وغیرہ کا پڑھا جانا ملتوی کر دیا گیا۔ اس کے متعلق اُنہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا گل دس بجے اس کیلئے پروگرام رکھ لیا جائے ؟ چونکہ اُس وقت تک اس پارٹی کے متعلق مجھے کوئی اطلاع نہیں ملی تھی اور میں اس کے انتظار میں تمام دن فارغ بھی نہیں بیٹھ سکتا تھا اس لئے میں نے انہیں اجازت دے دی کہ گل دس بجے کا وقت رکھ لو۔ لیکن آج ساڑھے نو بجے کے قریب پارٹی والوں کا آدمی آیا کہ چلیے پارٹی میں ۔ میں نے کہا کہ ل کا آدمی آیا کہ جیسے پارٹی میں۔ میں نے کہا کہ مجھے تو اس کی کوئی اطلاع نہیں ۔ تو اُس نے جواب دیا کہ آپ نے جو کہا تھا کہ خواہ صبح رکھ لو خواہ شام، میں آجاؤں گا ۔ اب یہ تو صحیح ہے کہ میں نے یہ کہا تھا لیکن وقت مقرر کر کے مجھے اس کی اطلاع دی جانی چاہئے تھی تاکہ میں باقی وقت کام پر لگا سکتا ۔ یہ کسی طرح بھی ممکن نہ تھا کہ میں صبح بھی اُٹھتے ہی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا رہتا کہ کوئی آدمی آئے گا کہ چل کر چائے پیو اور میں اُس کے ساتھ اُٹھ کر چل پڑوں گا۔ میرے کام میں تو اگر ایک دن کا بھی ناغہ ہو جائے تو کئی کئی دن تک اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے اور اتنا کام ہوتا ہے کہ روزانہ ۱۴، ۱۵ گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے ۔ پس یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ وہ جب چاہیں مجھے بلا لیں۔ میرے پاس جو آدمی آیا میں نے اُسے یہ جواب دیا کہ ساڑھے نو بجے آپ آئے ہیں دس بجے ان کا وقت ہے اس لئے میں آپ لوگوں کو صرف