خطبات محمود (جلد 17) — Page 105
خطبات محمود ۱۰۵ سال ۱۹۳۶ء جائیں گے جو سونا چاندی اور پیتل خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرتے ہیں یا وہ زیادہ قابل قدر سمجھا جائے گا جس نے اپنے دل کا خون خدا تعالیٰ کے آگے پیش کر دیا۔بے شک دنیا کے لوگ اس دل کے خون کی قدر نہیں کرتے کیونکہ انہیں وہ خون نظر نہیں آتا انہیں صرف سونا چاندی اور اس کے سکے دکھائی دیتے ہیں لیکن ہمارا خدا وہ ہے جو عالم الغیب ہے وہ جانتا ہے کہ گو اُس کے ایک بندہ کے پاس سونا چاندی نہیں مگر دین کے غم میں اُس کا دل خون ہورہا ہے اور یہ ہمارے پاس خونِ دل کا ہدیہ لے کر آیا ہے جس کے مقابلہ میں سونے اور چاندی کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ ایک مال دار کے سونے اور چاندی کے سکوں کی اور ایک طاقتور کی حالت اور قوت کی بھی وہ اس وقت قربانی قبول کرتا ہے جب ان پر دل کے خون کی پالش ہو ورنہ وہ اسے قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔پس ایک مالدار کی قربانی اور ایک طاقتور جسم رکھنے والے کی قربانی بھی اُسی وقت الہی دربار میں قبول کی ہو سکتی ہے جب اُس پر دل کے خون کے قطرے پڑے ہوئے ہوں ورنہ وہ قربانی اُس کے منہ پر ماری جاتی ہے اور کہا جاتا ہے وَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ۔پس مت خیال کرو کہ دُعائیں معمولی چیز ہیں، مت خیال کرو کہ تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے جسے قربانی کا موقع نہیں ملا۔تمہارے نیک ارادے اور تمہارے دل کی قربانی جب کہ تم دوسری قربانیوں میں حصہ نہیں لے سکتے اور جبکہ تم عاجزانہ اور مسکینا نہ طور پر خدا تعالیٰ کے حضور گر کر سلسلہ کی ترقیات کیلئے دعائیں کرتے ہو، دوسروں کی قربانی سے کم نہیں بلکہ بسا اوقات اُن سے بڑھ سکتی ہے کیونکہ یہ صرف قربانی ہی نہیں بلکہ ایک درد اپنے اندر رکھتی ہے۔جو انسان اپنے پاس مال نہیں رکھتا ، طاقت نہیں رکھتا ، فن نہیں رکھتا، علم نہیں رکھتا اور دل کی قربانی پیش کرتا ہے اس کی قربانی کی کے ساتھ درد بھی شامل ہوتا ہے کیونکہ جب وہ دیکھتا ہے کہ دوسروں کے پاس بہت کچھ ہے مگر میرے پاس کچھ بھی نہیں جو میں پیش کروں تو اُس کا دل جو عشق کی چوٹ کھایا ہوا ہوتا ہے درد اور غم سے پگھل جاتا ہے۔پس وہ درد والی قربانی ہے اور در دوالی قربانی کا وہ قربانی مقابلہ نہیں کر سکتی جس کے ساتھ درد نہیں۔اگر ایک مجلس میں ایک امیر آدمی خدمت دین کیلئے ایک کروڑ روپیہ پیش کر دیتای ہے تو تم اُس مجلس میں نم دار آنکھیں نہیں دیکھو گے۔بے شک نعرے لگانے والے دیکھو گے، شاباش اور مرحبا کی آوازیں لگانے والے دیکھو گے مگر کوئی نم دار آنکھ اس مجلس میں اس وجہ سے