خطبات محمود (جلد 17) — Page 753
خطبات محمود ۷۵۳ سال ۱۹۳۶ قربانی پیش کرنے کی اس سال توفیق دے دی ہے۔خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جو کوئی اس کی راہ میں قربانی کرے وہ اسے مزید قربانیوں کیلئے زیادہ جوش بخش دیتا ہے اور پچھلی قربانیوں کا ثواب اس رنگ میں بھی اسے ملتا ہے کہ اور قربانیوں کی توفیق اسے مل جاتی ہے۔میں یہ بھی اعلان کر دیتا ہوں کہ اس سال گزشتہ سال کے مقابل پر چونکہ پندرہ دن بعد میں نے تحریک کی ہے اس لئے اس سال کی تحریک کے وعدوں کے اختتام کا وقت ہندوستان کے لئے ۳۱ / جنوری ہے۔گویا ہندوستان کی تمام جماعتوں کے وعدے۳۱ /جنوری تک پہنچ جانے چاہئیں اور ہندوستان سے جو باہر کی جماعتیں ہیں ان کیلئے چونکہ زیادہ وقت درکار ہوتا ہے اس لئے انہیں جون کے آخر تک مہلت ہے۔میں نے گزشتہ سال بھی یہ اعلان کیا تھا اور متواتر کیا تھا کہ بیرونِ ہند کی جماعتوں کی وصولی کی تاریخ بھی جون کے آخر تک ہے لیکن معلوم ہوتا ہے انہوں نے ان اعلانات کو پڑھا نہیں اور اب تک بیرونی جماعتوں کی طرف سے تحریکیں ہو رہی ہیں کہ ہمیں چندوں کی ادائیگی کیلئے مزید مہلت ملنی چاہئے حالانکہ ان کیلئے پہلے سے جون کے آخر تک کا وقت مقرر ہے اور جنوری کے آخر تک کا وقت ہندوستان والوں کیلئے ہے جن کے وعدوں کی مدت ۱۵ جنوری تک ختم ہوتی تھی۔پس وصولی کی مدت بھی اگلے سال کی اسی تاریخ پر ختم کی گئی۔اس کے بعد میں دوستوں کو تحریک جدید کے اس حصہ کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو سادہ زندگی اختیار کرنے کا ہے میں نے اس کی طرف متواتر جماعت کو توجہ دلائی ہے اور علاوہ تحریک کے ایام کے دوسرے وقتوں میں بھی توجہ دلائی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں جہاں تک اسلام پر غور کرتا ہوں مجھے اس کے تمدن کا یہ نقطۂ مرکزی نظر آتا ہے اور میں سمجھتا ہوں ہزاروں قومی خرابیاں تکلفات سے پیدا ہوتی ہیں۔غریب اور امیر کا فرق یا تمدنی تعلقات کی ترقی یہ سب مبنی ہیں سادہ زندگی با پر تکلف زندگی پر۔جیسی جیسی کسی انسان یا قوم کی زندگی ہو اس کے مطابق قومی تعلقات اور تمدنی تعلقات ترقی کرتے یا تنزل کرتے ہیں۔خالی یہ سوال نہیں کہ خود انسان کیا کھاتا ہے یا کیا پہنتا ہے بلکہ سوال یہ بھی ہے کہ اُس کے کھانے اور اس کے پہنے کا اثر اس کی روحانیت اور اس کی قوم پر کیا پڑتا ہے۔بہت سے لوگ دنیا میں ایسے ہوتے ہیں جن کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے