خطبات محمود (جلد 17) — Page 747
خطبات محمود ۷۴۷ سال ۱۹۳۶ ساتھ شریک ہو جائیں اور پرسوں وہ دعا کریں جو آج رات ہم یہاں کریں گے اور جنہیں اخبار ان دونوں دنوں میں نہ ملے وہاں کے احباب اگلی دو راتوں میں اسی ترتیب سے دعا کریں اور اگلی دونوں راتیں ان دعاؤں کیلئے وقف کر دیں جو میں نے بتائی ہیں۔مگر بہر حال صوفیانہ اور روحانی کی نقطۂ نگاہ سے یہ ایک تجربہ ہے جو نہایت اعلیٰ اور عمدہ ذریعہ ہے خدا تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے کا۔اس کے بعد ہمارے لئے راستہ کھلا ہے اور رمضان کی بعض راتیں ابھی باقی ہیں ان میں اور مقاصد کیلئے دعائیں کی جاسکتی ہیں۔پس جن لوگوں کو خدا تعالیٰ توفیق دے وہ ان دو راتوں میں خصوصیت سے دعا کریں۔قادیان والے تو آج اور کل دعائیں کریں۔آج رات یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ان کو ان کے اہل وعیال کو اور ساری جماعت کو اپنے عفو، اپنی غفاری اور اپنی ستاری سے بہرہ ور کرے اور توبہ نصوح کی توفیق عطا فرمائے اور دوسری رات یہ دعا کرتے ہوئے گزاریں کہ خدا کا نور اور اُس کا جلال دنیا پر ظاہر ہو اور اُسی کی حکومت عالم میں قائم ہو۔جن لوگوں کو کل اس کی خبر پہنچے وہ کل قادیان والوں کے ساتھ مشترکہ دعا میں شامل ہو جائیں اور پرسوں وہ دعا کریں جو یہاں آج مانگی جائے گی اور جن کو اِن دونوں دنوں میں اطلاع نہ ہو وہ اگلی دو راتوں کو اسی ترتیب سے دعاؤں کیلئے وقف کر دیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کئی ہزار آدمی اس متحدہ دعا میں شریک ہو گئے تو یہ دعائیں قلوب میں صفائی پیدا کرنے اور خدا تعالیٰ کی محبت میں زیادتی رونما کرنے کیلئے بہت کامیاب ثابت ہوں گی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری جماعت کو صحیح راستوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ، اپنی بخشش کی چادر ان پر اوڑھائے ، انہیں بچی تو بہ کی تو فیق عطا فرمائے اور اپنا نورد نیا میں قائم کر دے۔( الفضل ۱۳ / دسمبر ۱۹۳۶ء)