خطبات محمود (جلد 17) — Page 736
خطبات محمود ۷۳۶ سال ۱۹۳۶ اصل تاریخ ہو ، چھپیں اور ستائیس دونوں راتوں میں خاص طور پر عبادت کرتا ہے تو اُس مؤمن کی دولیلۃ القدر ہو جاتی ہیں۔ان دو لیلۃ القدر کے متعلق میں اس وقت جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہی ہوں۔مجھے افسوس ہے کہ میری آواز بیرونی دوستوں تک نہیں پہنچ سکے گی لیکن اگر ” الفضل والے احتیاط سے بغیر مجھے دکھائے ہی آج کا خطبہ شائع کردیں اور صبح لوگوں کو پہنچ جائے تو بیرونی جماعتوں کے دوست بھی اس سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے حضور کوئی بعید بات نہیں وہ ستائیس کی لیلۃ القدر کو اٹھائیس اور انتیس میں بھی تبدیل کر سکتا ہے۔وہ بات جو ان دو دنوں کے متعلق کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کے دوست اپنی صحت کیلئے ، اپنی ترقیات کیلئے ، اپنے بچوں کیلئے ، اپنی بیوی کیلئے ، اپنے رشتہ داروں اور اپنے دوستوں کیلئے ، اسی طرح قرضوں کے انے کیلئے ، مقدمات میں کامیاب ہونے اور آفات سے محفوظ رہنے کیلئے بالعموم دعا کرتے رہتے ہیں لیکن دعا کا ایک طریق یہ بھی ہوا کرتا ہے کہ ایک ہی مقصد و مدعا کیلئے انسان دعا کرنے میں مشغول ہو جائے اور وہ اسی طرح دعا کرے جس طرح حضرت یونس علیہ السلام کے وقت میں لوگوں نے دعا کی تھی۔حضرت یونس علیہ السلام نے جب نینوا کے لوگوں پر عذاب نازل ہونے کی پیشگوئی کی تو جو وقت عذاب نازل ہونے کیلئے مقرر تھا اُس وقت تک وہ شہر سے باہر نکل کر عذاب کا انتظار کرتے رہے۔جب عذاب کی میعاد پر دو چار دن گزر گئے تو انہوں نے بعض لوگوں سے پوچھا کہ علاقے کا کیا حال ہے؟ انہوں نے بتایا کہ سب راضی خوشی ہیں۔حضرت یونس علیہ السلام یہ سن کر کچھ شرمندہ سے ہوئے اور انہوں نے سمجھا اب میرا وہاں واپس جانا لوگوں کیلئے کیا ہدایت کا موجب ہو سکتا ہے بہتر یہی ہے کہ میں کسی اور جگہ چلا جاؤں۔چنانچہ وہ اُس جگہ کو چھوڑ کر چل پڑے اور کسی دوسرے علاقہ میں جانے کیلئے جہاز پر سوار ہو گئے۔اتفاق سے سمندر میں سخت طوفان آ گیا۔اُس زمانہ کے لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ سمندر میں طوفان اس لئے آتا ہے کہ جہاز پر کوئی غلام بھاگ کر سوار ہوتا ہے اس عقیدہ کے ماتحت اُنہوں نے دریافت کیا کہ کیا کوئی غلام بھاگ کر یہاں آیا ہے؟ مگر کسی نے نہ مانا۔آخر انہوں نے قرعہ ڈالا تو حضرت یونس علیہ السلام کا نام نکلا مگر اُن کو حضرت یونس کی شکل دیکھ کر خیال آیا کہ یہ شخص جھوٹ نہیں بول سکتا اگر یہ بھاگا ہوا غلام ہوتا تو خود بخود بتا دیتا۔معلوم ہوا قرعہ صحیح نہیں پڑا۔چنانچہ بعض روایتوں میں آتا ہے کہ انہوں نے تین