خطبات محمود (جلد 17) — Page 726
خطبات محمود ۷۲۶ سال ۱۹۳۶ اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم دنیا میں بھی اپنے بندوں کو ذلیل نہیں ہے رکھتے اور جب چاہتے ہیں بادشاہت بھی دے دیتے ہیں مگر بادشاہت قومی ہوتی ہے انفرادی نہیں۔مسلمانوں کو جب بادشاہت ملی تو سارے ہی عمر اور عثمان نہیں بن گئے تھے۔غریب مسلمان اُس وقت بھی موجود تھے اگر نہیں تھے تو زکوۃ کے ملتی تھی اور صدقات رکن کو دئیے جاتے تھے۔تو ڈ نیوی اموال کا وعدہ قومی طور پر ہوتا ہے انفرادی وعدے ایسے ہوتے ہیں کہ مثلاً رمضان کیلئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر چیز کیلئے انعام ہوتے ہیں مگر روزے کا انعام میں خود ہوں۔اب کوئی بد بخت روزے رکھ کر اگر یہ سمجھے کہ میری تنخواہ پانچ سے چھ روپے ماہوار ہو جانی چاہئے تو وہ کتنا ہی نادان ہوگا۔خدا تعالیٰ تو کہتا ہے کہ میں خود ا سے مل جاتا ہوں مگر وہ کہتا ہے کہ نہیں مجھے آپ کی ضرورت نہیں آپ اپنے گھر میں رہیں اور مجھے صرف ایک روپیہ ماہوار مل جائے۔اس کی مثال ہے صرف ایسی ہے کہ جیسے کہتے ہیں کہ کوئی ڈپٹی کمشنر کہیں سفر پر جارہا تھا اس سے کسی فقیر نے سوال کیا اور اس نے اسے دو چار آنے دے دیئے۔فقیر لوگوں کو چونکہ پولیس کے سپاہیوں سے ہی واسطہ زیادہ تر پڑتا ہے وہ ایک جگہ بھیک مانگتے تو پولیس والے وہاں سے اٹھا کر دوسری طرف بھیج دیتے ہیں ، وہاں جاتے ہیں تو دوسرا سپا ہی وہاں سے بھی اُٹھا دیتا ہے اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ پولیس کے افسر ہی سب سے بڑے ہوتے ہیں۔اسی اثر کے ماتحت اُس نے خوش ہو کر اس ڈپٹی کو دعا دی کہ رب تینوٹھانے دار کرے۔یعنی خدا تعالیٰ تجھ کو تھانے دار بنائے جو الفاظ اس محسن کے حق میں بددعا تھے دعا نہ تھے۔تو ان بیوقوفوں کی مثال بھی ایسی ہے۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ روزے کے بدلہ میں میں خود مل جاتا ہوں مگر وہ کہتے ہیں نہ حضور ایک روپیہ مہینہ ہی ہمیں دے دیں۔اگر اللہ تعالیٰ روپیہ بھی دیتا ہے تو دے اس کے فضلوں کو کون روک سکتا ہے مگر دنیوی وعدے جماعتی ہوتے ہیں انفرادی نہیں۔یہ قرآن کریم میں کہیں نہیں کہ ہم تمہیں دولت دیں گے یہ ہے کہ ہم تمہاری قوم کو بادشاہت دیں گے۔تم اگر تحریک جدید پر عمل شروع کر دو تو آج کل یا پرسوں نہیں جب خدا تعالیٰ کی مرضی ہوگی تمہاری قوم کو ضرور بادشاہت مل جائے گی۔دیکھو حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے تین سو سال کے بعد ایک محدود بادشاہت دی تھی مگر آنحضرت ﷺ کو پندرہ بیس سال میں ہی