خطبات محمود (جلد 17) — Page 695
خطبات محمود ۶۹۵ سال ۱۹۳۶۔مقبرہ بہشتی کیلئے وصیت بھی دراصل اسی کے ماتحت ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر ی وصیت کرنے والا گنہ گار ہو جائے تو پھر ؟ لیکن ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایسے شخص کے انجام کو اللہ تعالیٰ اپنا انجام قرار دے لیتا ہے۔گندہ شخص اگر وصیت کر دے تو وصیت قبول کر لینے والا گنہگار ہوگا لیکن وصیت کرنے والا اپنی نیت کے مطابق ضرور جنت میں جائے گا۔پس اللہ تعالی بعض اشخاص کے انجام کو اپنا انجام قرار دے لیتا ہے۔بالکل ممکن ہے کہ اگر کوئی موصی گنہگار ہوتو اللہ تعالیٰ موت کے وقت فرشتوں سے تلقین کرا کر اسے تو بہ کا موقع دے دے اور وہ جنت میں چلا جائے یا اگر وہ اس قابل نہیں تو موت سے قبل اس کی وصیت منسوخ کر دے۔پس مَالِكِ يَوْمِ الدِّین کے ان گنت معنے ہیں۔بیسیوں کہنا قرآن کریم کی ہتک ہے جن میں سے ایک یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے انجام کو اپنا انجام قرار دے لیتا ہے۔یہ چار باتیں ہیں جن کی وجہ سے انسان حمد کا مستحق ہوسکتا ہے لیکن تعجب کا مقام ہے کہ بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے بغیر ہی ان کی تعریف ہو۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے متعلق اظہار نفرت کیا ہے جو کوئی کام تو کرتے نہیں لیکن تعریف کی خواہش رکھتے ہیں۔میں اپنی جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ تعریف کا احساس قدرتی ہے بے شک یورپین فلاسفر کہتے ہیں کہ انسان کو تمام قسم کی تعریفوں سے مستغنی ہونا چاہئے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ خدا کی تعریف سے بھی مستغنی ہونا چاہئے۔حقیقی تعریف سے مستغنی ہونے والا انسان احمق کہلائے گا۔تعریف کا جذ بہ طبعی ہے حتی کہ رسول کریم ﷺ نے تو اسے اتنی اہمیت دی ہے کہ فرمایا جس شخص کے متعلق چالیس مؤمن کہیں کہ وہ نیک تھا وہ ضرور جنت میں جائے گا گویا جنت کو بھی شہادت پر منحصر کر دیا لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ تعریف کا جذبہ چونکہ مجو و فطرت ہے اس لئے چالیس مؤمن جس کی تعریف کریں اُس کے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ہے کیونکہ فطرت اللہ تعالیٰ سے ہی آتی ہے۔پس جب یہ فطری جذبہ ہے تو اسے پورا کرنے کے سامان بھی کرنے ضروری ہیں اور وہ سامان یہی ہیں کہ مؤمن کا احسان محدود نہ ہو۔انسان اور خدا میں یہی فرق ہے کہ خدا کا احسان ہر چیز پر براہ راست ہوتا ہے مگر انسان کے اعمال محدود ہیں اس لئے اُس کا احسان ہر چیز پر براہِ راست نہیں ہو سکتا اس وجہ سے وہ ان معنوں میں تو رَبُّ العَلَمین نہیں