خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 683 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 683

خطبات محمود ۶۸۳ سال ۱۹۳۶ فوت ہوا ہی کرتی تھی اب میری لڑکی کی اولا د بھی فوت ہونے لگ گئی ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس عموماً دعا کرانے کیلئے آیا کرتیں۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں فرمایا آپ گھبرائیں نہیں اللہ تعالیٰ آپ کی بیٹی کو اولاد دے گا۔اُن کا اللہ تعالیٰ پر اس قدر ایمان تھا کہ ایک دفعہ ان کا ایک بچہ فوت ہو گیا وہ بچہ خلقی طور پر کچھ نقص اپنے اندر رکھتا تھا، کانوں سے بہرہ تھا اور آنکھیں بھی شاید کمزور تھیں اس بچہ کی وفات پر ایک عورت اُن کے پاس افسوس کرنے آئی تو کہنے لگیں میرا بچہ اچھا ہو گیا ہے یعنی پہلے تو اس میں نقص تھا لیکن اب وہ اللہ تعالیٰ کے پاس خوبصورت ہونے کیلئے گیا ہے۔تو یاد رکھو خدا تعالیٰ کی خاطر جن لوگوں سے قطع تعلق کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اُن کے بہتر قائمقام پیدا کر دیتا ہے جو نہ صرف اخلاص میں بڑھے ہوئے ہوتے ہیں بلکہ تعداد میں بھی زیادہ ہوتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جب اپنے مخلص بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کی کیلئے قربان کرنے کو تیار ہو گئے اور بیٹے نے بھی خدا تعالیٰ کا حکم ماننے میں کوئی عذر نہ کیا تو خدا تعالیٰ نے انہیں کہا اے ابراہیم ! تو نے میرے حکم کے ماتحت اپنے اکلوتے بیٹے کو میری راہ میں قربان کرنے کیلئے تیاری کی آسمان کی طرف دیکھ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آسمان کی طرف دیکھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا دیکھ کیا آسمان پر ستارے ہیں ؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا ہاں حضور ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تو ان ستاروں کو گن سکتا ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا اے خدا! میں تو ان ستاروں کو نہیں گن سکتا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابراہیم ! دیکھ چونکہ تو اپنے اکلوتے بیٹے کو میری راہ میں قربان کرنے کیلئے تیار ہو گیا تھا اس لئے میں تیری نسل کو اس قدر بڑھاؤں گا کہ وہ اسی طرح نہیں گئی جاسکے گی جس طرح آسمان پرستارے نہیں گنے جاسکے۔کیا وہ کی خدا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے مخلص بیٹے کی قربانی پر اس قدر کثرت سے نسل دے سکتا ہے وہ ہمیں منافق فرزندوں کی قربانی پر ان کے ایسے قائمقام نہیں دے گا جو ان کی کمی کو پورا کرنے والے ہوں۔یقیناً جو قوم خدا تعالیٰ کی محبت اور اخلاص میں اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ وہ نفاق کو برداشت نہیں کر سکتی اسے اللہ تعالیٰ اسی طرح بڑھاتا ہے جس طرح آسمان پر ستارے کثرت سے پھیلے ہوئے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اس نکتے کو سمجھے تھے یا نہیں جو ستاروں کی طرف اشارہ