خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 68

خطبات محمود ۶۸ سال ۱۹۳۶ء چوہدری ظفر اللہ صاحب اور ان کے جرمن دوست برونگر نے قافلہ میں سے بعض آدمیوں کے ساتھ مل کر رکھا۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب چونکہ ولایت میں رہ چکے تھے اس لئے وہ وہاں کے طریق سے واقف تھے اور اُن کا دوست تو یورپ کا ہی تھا گو وہ اب انگلستان میں رہتا ہے اور جنگ کے بعد نوابیاں جاتی رہیں لیکن اب بھی وہ انگلستان میں انجینئر اور موجد ہے اور معزز شخص ہے مگر باوجود اس کے اُس نے اپنے ہاتھ سے کام کیا۔اس کے مقابلہ میں ہمارے ملک میں اگر پندرہ پشت سے نوابی بھی کسی کے خاندان سے گئی ہوئی ہو تو مجال نہیں کہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرے بہر حال اُس نے اور چوہدری صاحب نے مل کر کام کیا اور اسباب کمروں میں رکھ دیا۔بے شک بعض ہمارے ساتھیوں نے بھی کام کیا لیکن بعض نے اس کو بُرا منایا اور کام سے انکار کر دیا۔پس ولایت میں سب اپنے ہاتھ سے کام کرتے ہیں۔میرے ساتھ ہی امریکہ کے بعض امراء سفر کر رہے تھے وہ بہت بڑے تاجر تھے، لکھ پتی یا کروڑ پتی تھے اور وہ اپنے اہل و عیال سمیت یورپ کی سیاحت کیلئے آئے ہوئے تھے۔میرے سامنے جب وہ سٹیشن پر اترے تو ہر ایک نے اسباب کے تین تین بنڈل اپنے آگے پیچھے لٹکا لئے اور چل پڑے۔میرے لئے بھی یہ اچنبھا تھا کیونکہ میں لٹکا بھی آخر ہندوستانی طریق کا عادی تھا۔بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی گارڈ یا ڈرائیور نے کسی بڑے افسر کو پہچان لیا تو کہہ دیا لائیے میں اسباب اُٹھا لیتا ہوں اور وہ اسباب اُٹھانے پر اُسے کچھ انعام دے دیتے ہیں مگر یہ اتفاقی ہوتا ہے اور پھر شاذ کے طور پر انعام لینے کی خاطر بعض لوگ دوسرے کا اسباب اُٹھا لیتے ہیں لیکن اس صورت کو مستی کرتے ہوئے باقی سب لوگ خواہ وہ کتنے بڑے ہوں اپنے ہاتھ سے سب کام کرتے اور اپنا اسباب خود اُٹھا کر لاتے اور لے جاتے ہیں اور ان میں۔کوئی عیب نہیں سمجھا جاتا۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی لکھ پتی یا کروڑ پتی اپنے ساتھ کوئی نوکر رکھ لیتا ہے جو اسباب اُٹھا لیتا ہے لیکن مزدوروں اور قلیوں کا وہ طریق جو ہمارے ہاں مروج ہے یورپ میں کہیں نظر نہیں آتا سب اپنے ہاتھ سے کام کرتے ہیں۔پس یہ اخلاق جو اِن میں پیدا ہوئے ان کی اصل وجہ یہی ہے کہ انہوں نے حقیقی کام کرنے کی عادت ڈال لی اور وہ فضول باتوں میں وقت ضائع نہیں کرتے۔پھر ان میں سے بھی جو اپنے وقت کو فضول باتوں میں ضائع کرنے والے ہیں ان میں وہی عادتیں پائی جاتی ہیں جو