خطبات محمود (جلد 17) — Page 678
خطبات محمود ۶۷۸ سال ۱۹۳۶ پہنچا دیتے ہیں اس قسم کے وجود محمدی وجود ہوتے ہیں۔پس نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ہر جگہ موجود ہے مگر یہی صداقت از لی جو خدا نے پیدا کی صرف انہی کو نظر آسکتی ہے جو الوہیت کی چادر اوڑھ لیں تا کوئی شخص یہ کہہ سکے کہ دنیا میں دو چیزیں ہیں بلکہ ہر کوئی انہیں دیکھ کر یہی کہے کہ یہ سب نور اللہ کا ظہور ہے اور اس نور میں کوئی دوئی نہیں۔غرض نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ سے وہ صداقت از لیہ مراد ہے جس کا کامل ظہور محمدی کے ذریعہ ہوا اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرما یا لولاک لَمَا خَلَقْتُ الافلاک یعنی میں نے دنیا اسی ازلی صداقت کو ظاہر کرنے کیلئے پیدا کی ہے اور اس ازلی اور ابدی صداقت کو اور کسی نے کامل طور پر ظاہر نہیں کیا صرف تو ایسا وجود ہے جس نے اسے کامل طور پر ظاہر کیا۔پس اگر تو پیدا نہ ہوتا تو میں اس زمین و آسمان کو ہرگز پیدا نہ کرتا۔پس اس از لی اور ابدی صداقت کے مقابلہ میں جسے نور اللہ کہتے ہیں دنیا کا کوئی انسان ، دنیا کی کوئی جماعت، دنیا کی کوئی نسل ، بلکہ کروڑوں اور اربوں سالوں کی نسلیں بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتیں اور یقیناً ان سب کو مٹایا جا سکتا اور انہیں تباہ و برباد کیا جاسکتا ہے لیکن سچائی کے مشتبہ ہونے یا اس کے مٹنے کو کبھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ایک سر میں پڑی ہوئی جوں کی کوئی قیمت ہو سکتی ہے لیکن سوائے اُن انسانوں کے جنہوں نے سچائی سے اپنے آپ کو کامل طور پر وابستہ کر لیا اور لوگوں کی ایک جوں کے برابر بھی حیثیت نہیں ہے۔بچپن میں ہمیں کہانیاں سنے کا بہت شوق تھا۔ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہتے تو آپ ہمیں ایسی کہانیاں سناتے جنہیں سن کر عبرت حاصل ہوتی۔انہی کہانیوں میں سے ایک کہانی مجھے اس وقت یاد آ گئی جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان سے میں نے سنا۔آپ فرماتے حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں طوفان اس وجہ سے آیا کہ لوگ اُس وقت بہت گندے ہو گئے کو تھے اور گناہ کرنے لگ گئے تھے۔وہ جوں جوں اپنے گناہوں میں بڑھتے جاتے خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ان کی قیمت گرتی جاتی۔آخر ایک دن ایک پہاڑی کی چوٹی پر کوئی درخت تھا اور وہاں گھونسلے میں چڑیا کا ایک بچہ بیٹھا ہوا تھا اُس بچے کی ماں کہیں گئی اور پھر واپس نہ آسکی شاید مرگئی یا کوئی اور وجہ ہوئی کہ نہ آئی۔بعد میں اس چڑیا کے بچہ کو پیاس لگی اور وہ پیاس سے تڑپنے لگا اور اپنی چونچ کھولنے لگا تب خدا تعالیٰ نے یہ دیکھ کر اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ جاؤ اور زمین پر پانی برساؤ اور اتنا