خطبات محمود (جلد 17) — Page 633
خطبات محمود ۶۳۳ سال ۱۹۳۶ رسول کریم ﷺ کی ساری اولاد ہی عزت کے قابل ہے۔اگر آپ نے اپنی ایک بیوہ بیٹی کی بھی کی شادی کی ہے تو دوسری بیٹی کی نسل میں سے کوئی شخص اپنی بیوہ بہن یالڑ کی کی شادی کیوں نہیں کر سکتا مگر میرا یہ جواب ان کی سمجھ میں نہ آیا اور وہ یہی کہتے رہے کہ یہ ہتک ہے میں اسے کس طرح برداشت کر سکتا ہوں۔اب یہ موجودہ زمانہ کے بڑے خاندانوں میں وقار کے خلاف بات سمجھی جاتی ہے کہ ان میں سے کوئی اپنی کسی عزیزہ کی دوبارہ شادی کر دے مگر رسول کریم ﷺ کو اس میں کوئی بات وقار کے خلاف نظر نہیں آتی تھی۔اسی طرح اور ہزاروں باتیں ہیں جو عرب میں اس وقت رائج تھیں مگر آج ہمارے زمانہ میں اگر وہی باتیں کی جائیں تو سب لوگ انہیں وقار کے خلاف سمجھنے لگ جائیں۔اس کی وضاحت کیلئے ایک اور مثال بھی دے دیتا ہوں۔تاریخ سے ثابت ہے کہ بڑے بڑے صحابہ جب جنگ میں جاتے تو اشعار پڑھتے۔رسول کریم ہے ان کے شعر سنتے اور اُنہیں داد دیتے لیکن ہمارے زمانہ میں اگر کوئی معزز شخص شعر پڑھنے لگ جائے تو سب کہنے لگ جائیں گے کہ یہ وقار کے خلاف بات ہے حالانکہ تاریخ سے صاف طور پر نظر آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ جب کسی جنگ پر تشریف لے جاتے تو صحابہ ایسے اشعار پڑھتے جن میں لوگوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں جانیں دینے کی ترغیب دی جاتی اور رسول کریم ﷺ صحابہ کے ایسے اشعار سُن کر اُن کی تعریف کرتے اور کوئی شخص اسے وقار کے خلاف نہ سمجھتا۔لیکن اس زمانہ میں وہی بات وقار کے خلاف سمجھی جاتی ہے حالانکہ صحابہ نہیں ہمیں یہ بات دکھائی دیتی ہے بلکہ صحابہ تو الگ رہے خود رسول کریم ﷺ کے گھروں میں بعض اشعار گائے جاتے کیونکہ رسول کریم ﷺ نے جہاں مزامیر سے روکا ہے وہاں گانے یا بعض قسم کے باجوں کی اجازت بھی دی ہے۔چنانچہ شریفانہ اشعار کا رسول کریم ﷺ کے گھروں میں پڑھا جانا ثابت ہے۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم ﷺے گھر تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بعض عورتوں سے گا نائن رہی ہیں وہ پیشہ ور گانے والی عورتیں نہیں تھیں جنہیں اسلام نے ناپسند کیا بلکہ محلہ کے معزز گھرانوں کی بہو بیٹیاں یا بیویاں تھیں اور وہ بعض دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آکر گاتی تھیں۔رسول کریم ﷺ نے ان کے فعل کو نا پسند نہیں کیا بلکہ ایک دفعہ عورتوں کے گانے کی وجہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ