خطبات محمود (جلد 17) — Page 632
خطبات محمود ۶۳۲ سال ۱۹۳۶ صلى الله گرتے نہیں ہوتے تھے، سروں پر پگڑیاں اور ٹوپیاں بھی نہیں ہوتی تھیں حتی کہ پاؤں میں جوتی بھی نہیں ہوتی تھی صرف تہبند انہوں نے باندھا ہوا ہوتا اور وہ اسی طرح آدھا دھڑ نگا کئے اور ننگے سر بازاروں میں جاتے اور کوئی اسے وقار کے خلاف نہ سمجھتا مگر اب کوئی غریب آدمی بھی مسجد میں ننگے سر آ جائے تو سارے اُس کے پیچھے پڑ جائیں گے اور کہیں گے کہ یہ وقار کے خلاف بات ہے۔تو دراصل ہمیں بعض چیزوں کی عادت ہو چکی ہے جس کی وجہ سے ہم برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کے خلاف کوئی کام کرے۔میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ یہ عادات بُری ہیں یا اچھی لیکن اصولاً اس وقت اس قدر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ بعض عادات اچھی ہیں اور بعض بُری۔اس لئے بعض جگہ اس لفظ کا عام ان مفہوم بھی درست ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ غلط ہو جاتا ہے۔مثال کے طور پر بیوہ کا نکاح لے لو۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بیوہ عورتوں کا نکاح کرنے میں کوئی ہتک نہیں سمجھی جاتی تھی خود رسول کریم ﷺ نے اپنی بیوہ لڑکیوں کی شادیاں کیں اور آپ کی ایک نواسی تو متعدد بار بیوہ ہوئیں اور متعدد بار ہی ان کی شادی ہوئی۔مجھے اس وقت صحیح یاد نہیں مگر غالباًا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ایک لڑکی جن کا نام سکینہ تھا جہاں تک تاریخ سے معلوم ہوتا ہے وہ سات بار بیوہ ہوئیں اور سات دفعہ ہی اُن کی شادی ہوئی۔اسلامی دستور کے مطابق ان کا یہ فعل کوئی شخص بھی بُرا نہ سمجھتا تھا بلکہ اسے مستحسن سمجھتے تھے۔مگر ہمارے ملک کا اب یہ حال ہے اس کا اس مثال سے پتہ چل سکتا ہے کہ میں نے ایک دفعہ ایک سید نو جوان سے کہا کہ تمہاری بہن بیوہ ہے اس کی شادی کرا دو۔اس نے نہایت ہی حیرت و استعجاب سے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا آپ کیا بات کہتے ہیں؟ میں نے کہا میں یہ کہتا ہوں کہ تمہاری بہن بیوہ ہے اس کی کہیں شادی کرا دو۔اُس نے جواب دیا آپ تو میری ہتک کرتے ہیں۔میں نے کہا جس خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے آپ کو عزت حاصل ہے اُن کی تو بیوہ لڑکیوں کی شادی کرنے سے ہتک نہ ہوئی اور آپ کی اس سے ہتک ہو جاتی ہے؟ تمہاری عزت آخر اسی وجہ سے ہے کہ تم محمد ﷺ کی بیٹی کی اولاد ہو مر محمد ﷺ کی بعض بیٹیاں بیوہ ہو ئیں اور آپ نے اُن کی دوسری شادیاں کیں۔پس تمہاری دادی جو رسول کریم ﷺ کی بیٹی تھیں انہیں کون سی زائد خصوصیت حاصل ہے کہ ان کی اولاد کی بیواؤں کی شادیاں نہیں ہونی چاہئیں۔آخر