خطبات محمود (جلد 17) — Page 631
خطبات محمود ۶۳۱ سال ۱۹۳۶ مصئون ہو جائیں کہ ہمارا کوئی کام خدا تعالیٰ کی نظر میں بے وقار نہ ہو اور نہ ہمارا کوئی فعل ہمیں کسی نیکی سے محروم کر دے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمارے ملک میں عام طور پر عادت کا نام وقار رکھا جاتا ہے اور ہماری عادت کے خلاف اگر کوئی شخص بات کرے تو ہم کہہ دیتے ہیں یہ وقار کے خلاف ہے مثلاً انگریز پکنک کے موقع پر بعض دفعہ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھا لیا کرتے ہیں لیکن اس کے علاوہ وہ کی ہمیشہ میز کرسی پر ہی کھانا کھاتے ہیں۔اب اگر اپنے گھر میں کوئی انگریز زمین پر بیٹھ کر کھانا کھانے لگ جائے تو اس کے سب دوست اور رشتہ دار کہنے لگ جائیں گے کہ یہ وقار کے خلاف فعل ہے۔یا یہ کہیں گے یہ اس کی شان کے خلاف فعل ہے اور انہی معنوں میں یہ لفظ عام طور پر لوگ استعمال کرتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ میں اس لفظ کو استعمال نہیں کرتا میں بھی اسے استعمال کرتا ہوں کیونکہ ہمارے ملک میں اب یہ محاورہ ہو گیا ہے کہ جب کوئی بات نا پسندیدہ ہو اور دوسرے کو اس سے روکنا ہوتو کہ دیا جاتا ہے یہ بات وقار کے خلاف ہے۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کے زمانہ میں میں ایک دفعہ لا ہور گیا۔اُن دنوں میں ترکی ٹوپی پہنا کرتا تھا قادیان میں اُس وقت دُکانیں بہت تھوڑی تھیں اور سودا ان میں بہت کم ہوتا تھا۔اتفاقاً ایک دفعہ میرے سر کے مطابق ٹوپی نہ ملی میں لاہور چلا گیا کہ ٹوپی بھی خرید لاؤں گا اور دوستوں سے بھی مل آؤں گا ، سیر بھی ہو جائے گی۔جب میں واپس آیا تو گو حضرت خلیفہ اول سے میں پوچھ کر ہی لاہور گیا تھا مگر آپ نے مجھ سے دریافت کیا میاں !لاہور کیوں گئے تھے؟ میں نے عرض کیا میں لا ہور ٹوپی خرید نے کیلئے گیا تھا۔میرا جواب سن کر آپ بڑی حیرت اور تعجب سے فرمانے لگے ترکی ٹوپی لینے کیلئے۔پھر فرمایا یہ تمہاری شان اور وقار کے خلاف ہے کہ تم خود ترکی ٹوپی لینے جاؤ۔پھر حضرت خلیفہ اول فرمانے لگے میں نے تو کبھی بازار سے سو دانہیں خریدا۔غرض حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی عادت کے لحاظ سے بازار سے سو دا خرید نا بھی وقار کے خلاف تھا۔مگر رسول کریم ﷺ کے متعلق تاریخ میں کئی جگہ آتا ہے کہ آپ بازاروں میں جاتے ، سو دا خریدتے اور دُکانداروں کی نگرانی بھی کرتے۔تو اس زمانہ میں اپنی عادات کی وجہ سے بعض تبدیلیوں کو ہم نا پسند کرتے اور انہیں خلاف وقار قرار دے دیتے ہیں گوشرعاً ہم انہیں جائز ہی سمجھتے ہوں۔چنانچہ دیکھ لوصحابہ کے متعلق احادیث اور تاریخ میں کئی جگہ ذکر آتا ہے کہ ان میں سے بعض کے پاس