خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 608 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 608

خطبات محمود ۶۰۸ سال ۱۹۳۶ مگر مغرب والوں نے پھر اپنا سر ہلا دیا اور کہا جاپانی غیر مہذب ہیں۔اس پر ہم نے سمجھا کہ شاید چونکہ یہ اپنے جہازوں میں مال لاتے ہیں اور ہمارے اپنے جہاز نہیں اس لئے ہم ان کی نگاہ میں مہذب نہیں۔یہ خیال آنے پر ہم نے اپنے جہاز بنائے اور اپنے جہازوں میں غیر ممالک کو اشیاء بھیجنی شروع کیں اور ہم نے خیال کیا کہ اب تو یہ ہمیں مہذب خیال کریں گے مگر مغربی لوگوں نے پھر سر ہلا دیا اور کہا کہ جاپانی غیر مہذب ہیں۔وہ کہتا ہے کہ ہم اس پر پھر حیران ہوئے اور خیال کیا کہ چونکہ ہم تعلیم میں پیچھے ہیں اس لئے غیر مہذب ہوں گے اس پر ہم نے تعلیم پر زیادہ زور دینا شروع کیا اور نئی سے نئی ایجادیں کرنی شروع کر دیں مگر ہم پھر بھی مغرب کی نگاہ میں غیر مہذب رہے۔اتنے میں مانچوریا میں جھگڑا شروع ہو گیا اور روس کے ساتھ ہماری لڑائی ہوئی تب پستہ قد جاپانیوں نے میان سے اپنی تلوار نکال لی اور دیو قد روسیوں پر ٹوٹ پڑے اور تین لاکھ روسیوں کے خون سے انہوں نے مانچوریا کی زمین کو سرخ کر دیا تب ہم نے دیکھا کہ سارا یورپ اور امریکہ پکار اُٹھا کہ جاپانی مہذب ہیں جا پانی مہذب ہیں۔وہ کہتا ہے تب ہمیں معلوم ہوا کہ یورپین اقوام کے نزدیک تہذیب طاقت کا نام ہے۔اس قسم کے خیال کا لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونا بہت خطرناک چیز ہوا کرتی ہے اور حکومت کو یہ امر ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ اگر اس کے ماتحت افسر لوگوں کے دلوں میں اس قسم کا خیال پیدا کرتے ہیں تو وہ رعایا کو باغی بناتے ہیں کیونکہ اگر رعایا کے دل میں یہ خیال پیدا ہو جائے کہ حکومت طاقت کے آگے جھکتی ہے دلائل کے آگے نہیں جھکتی تو امن کہاں رہ سکتا ہے۔جب لوگ یہ دیکھیں کہ حکومت طاقتور کی بات مانتی ہے تو ان میں بھی مقابلہ کا جوش پیدا ہوتا ہے اور حکومت کے مقابلہ میں طاقت کا استعمال بغاوت کی روح پھیلاتا ہے۔پس اگر حکومت سمجھتی ہے کہ لکھنؤ والے چونکہ مالدار ہیں یا جتھے اور طاقت والے ہیں اس لئے اس نے قانون کا وہاں نفاذ کر دیا لیکن احمدی کمزور ہیں اس لئے ان کے متعلق کسی قانون کی ضرورت نہیں تو میری نصیحت اسے یہی ہے کہ وہ اپنا رویہ اس بارے میں بدل لے کیونکہ اس خیال کا پیدا ہونا حکومت کے تباہ کرنے کے مترادف ہوتا ہے اور اس کی موجودگی میں کبھی امن قائم نہیں ہوسکتا۔پس میرے نزدیک خالی مولوی عطا ء اللہ کو روکنا کافی نہیں۔قادیان ہمارا مقدس مقام ہے اور قادیان کے متعلق گورنمنٹ کا یہ قانون ہونا