خطبات محمود (جلد 17) — Page 600
خطبات محمود ۶۰۰ سال ۱۹۳۶ نہیں اور پتھر کی صورت میں سو میں سے نانوے امکانات یہی ہیں کہ نشان ہوتا۔ہاں سُوکھی مٹی کا ڈلا ہوسکتا ہے یہ بغیر نشان لگنے کے دھما کہ بھی دے سکتا ہے اور آواز بھی اس سے پیدا ہو سکتی ہے اس کا مجھے پہلے خیال نہیں آیا اب خطبہ کے وقت خیال آیا ہے پس اگر اس کو بھی شامل کر لیا جائے تو میرے نزدیک چمڑے کی کوئی چیز یا لکڑی کی زندہ کی ہوئی چیز یا سوکھی مٹی کا ڈلا تھا ایسی چیز میں جب پھینکی جائیں تو آواز بھی دے سکتی ہیں اور بہت ممکن ہوتا ہے کہ ان کا نشان بھی نہ رہے۔سُوکھی مٹی کے ڈلے میں تو یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی تلاش بھی نہ ہو سکے کیونکہ مٹی کا ڈلا لگ کر ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس چیز کی تلاش حقیقی طور پر ہوئی نہیں ایک آدھ منٹ سے زیادہ تلاش نہیں کی گئی۔میں جلد ہی موٹر میں بیٹھ گیا اور دوستوں کو بلالیا نیز جو دوست ساتھ تھے وہ گلی کے قریب کے مقامات اور اُس کے ننگے حصہ کو ہی دیکھتے رہے دُور دُور انہوں نے نہیں دیکھا اور جو چھتی ہوئی نالیاں تھیں ان کو بھی انہوں نے نہیں دیکھا اور اس وجہ سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اگر پوری طرح ہم تلاش کرتے تو وہ چیز نہ ملتی۔اس موقع پر جماعت نے جو رویہ اختیار کیا ہے میں اسے پسند کرتا ہوں کیونکہ انہوں نے گورنمنٹ سے کوئی اپیل نہیں کی۔میرے نزدیک گورنمنٹ کا اور ہمارا معاملہ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ اب اس کے بعد پنجاب کی گورنمنٹ کو توجہ دلا نا فضول بات ہے کیونکہ پنجاب کی گورنمنٹ بیعت کر چکی ہے ضلع گورداسپور کی پولیس کی۔وہ اگر سورج کو کہے کہ اندھیرا ہے تو پنجاب گورنمنٹ کہتی ہے اندھیرا ہے اور اگر وہ رات کو کہے کہ سورج نکلا ہوا ہے تو حکومت پنجاب بھی کہہ دیتی ہے کہ ہاں سورج نکلا ہوا ہے۔چونکہ وہ ہماری ہر رپورٹ کے مقابلہ میں پولیس کی رپورٹ کو زیادہ وقعت دیتی ہے اس لئے ایسی صورت میں اس کے پاس شکایت کرنا بے فائدہ امر ہے۔یہاں کی پولیس والے جو باتیں کرتے رہتے ہیں وہ بھی مجھے پہنچتی رہتی ہیں ان میں سے وہ بھی ہیں جو اس کی خیال سے متفق ہیں جس کا میں نے اظہار کیا اور وہ سمجھتے ہیں کہ کسی شریر نے جماعت کو اشتعال دلانے کیلئے یہ فعل کیا ہے۔بعض یہ باتیں بھی کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی بچے سے کوئی چیز گرگئی ہوگی حالانکہ جو دھما کہ تھا اُس کو وہی جان سکتے ہیں جو وہاں موجود تھے۔پنجابی میں مثل ہے گھروں میں آواں تے سنیے توں دیویں