خطبات محمود (جلد 17) — Page 599
خطبات محمود ۵۹۹ سال ۱۹۳۶ وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا تو پھر اے سنگدل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو اگر قانون شکنی ہی کرنی ہے اور مار پیٹ کا ہی کسی کو خیال پیدا ہونا ہے تو پھر وہ ایسا ہی آدمی تلاش کرے گا جو مغوی اور مفسد اور متفنی ہو یہ بیچارے پانچ پانچ اور دو دو روپے لے کر کام کرنے والے حیثیت ہی کیا رکھتے ہیں ان غریبوں کو تو ہلا شیرا کہہ کر دوسرے لوگ آگے کر دیتے ہیں۔پس ان کا مقابلہ کوئی نظمند نہیں کر سکتا اور اگر کوئی احمدی اس قسم کی حرکت کرے تو نہ صرف میں اسے قانون شکن کہوں گا ، نہ صرف اُسے اپنا عاصی اور نافرمان کہوں گا بلکہ بیوقوف اور احمق بھی کہوں گا۔جو شخص گوہ پر اینٹ مارے گا میں اسے بیوقوف نہ کہوں گا تو اور کیا کہوں گا۔نجاست پر اینٹ مارنے والے پر تو نجاست ہی پڑے گی۔پس پولیس افسران کے یہ وسو سے تو صرف ان کی روشنی مطبع کی علامت ہیں اور کچھ نہیں۔مقامی پولیس کی حالت تو یہ ہے کہ اسے متواتر خبریں ملیں کہ اس گلی میں فساد کے اندیشے ہیں مگر اس کے پاس پہرے کیلئے کافی پولیس نہ تھی لیکن حنیفا کی جان کی حفاظت کیلئے اس کے پاس ہمیشہ کافی پولیس ہوتی ہے۔صوبہ کے ایک بہت بڑے افسر نے مجھ سے خود کہا کہ وہ پولیس حنیفا کی حفاظت کیلئے نہیں ہوتی بلکہ اس لئے ہوتی ہے تا وہ پھر کسی احمدی پر حملہ نہ کر دے۔میں نے کہا آپ کی پولیس معلوم ہوتا ہے بات خوب بنا سکتی ہے مگر ہم اپنی دیکھی ہوئی بات کا کیونکر انکار کریں کہ پولیس کو باوجود علم ہونے کے وہ خطرہ کی جگہ کے متعلق تو کوئی انتظام نہیں کرتی لیکن حنیفا کے آگے پیچھے پھرنے لگتی ہے۔غرض ایسے واقعات اس دن اور اس کے قریب رونما ہوئے کہ یہ یقین کرنے کی کافی وجہ ہے کہ وہ وقوعہ ہتک کے طور پر جماعت کو اشتعال دلانے کیلئے کیا گیا گو وہ ایسا نہ تھا جس سے جان کا خطرہ ہو یا جو جان پر حملہ کہا جا سکتا ہو۔پس جن دوستوں نے اس وقوعہ کا ذکر ”پتھر پڑا“ سے ” پتھر میں پڑیں“ کے الفاظ میں کیا میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ مؤمن مبالغہ سے کام نہیں لیتا بلکہ وہ سچائی کا دلدادہ ہوتا ہے۔پتھروں کا کوئی سوال نہیں جو چیز پھینکی گئی وہ ایک تھی پس جو کہتا ہے کہ پتھر پھینکے گئے وہ مبالغہ سے کام لیتا ہے اور اسے اپنی اصلاح کرنی چاہئے۔میرا غالب گمان یہ ہے کہ وہ پتھر نہیں تھا کیونکہ موٹر پر کوئی نشان