خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 598 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 598

خطبات محمود ۵۹۸ سال ۱۹۳۶ تھے کیونکہ جب ایسے کاموں کی تعریف کی جائے اور کہا جائے کہ آپ تو اس کام کی وجہ سے غازی کی بن گئے ہیں تو کئی نو جوانوں کو خیال آجاتا ہے کہ ہم بھی غازی بننے کی کوشش کریں۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ پہلا غازی تو چھپتا پھرتا تھا اور پھر پولیس اس کی نگرانی کرتی رہی اور اب بھی اس وقوعہ کے بعد کو پولیس اس کے ساتھ لگی ہوئی ہے کیونکہ پولیس کو اگر حفاظت کی ضرورت نظر آتی تو صرف اسی غازی کی۔اس سے گورنمنٹ کو کچھ ایسی محبت ہے کہ وہ عشق کے درجہ تک پہنچی ہوئی ہے اور یہاں کی پولیس کا تو اس سے لیلی مجنوں والا تعلق ہے جب بھی کوئی واقعہ ہو دوڑ کر وہ اُس کے گر د جمع ہو جاتی ہے کہ ہمارے اس محبوب کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔حالانکہ عقلمند احمدی کی تو جوتی بھی اُس پر پڑنے سے شرمائے گی ایسے ذلیل آدمی کا مقابلہ کر کے کسی نے کیا لینا ہے۔آخر یہ بھی تو انسان کو دیکھنا پڑتا ہے کہ میرے مقابلہ میں ہے کون؟ گزشتہ سالوں میں جب مباہلہ والوں نے مجھ پر الزام لگائے تو کئی دوست گھبرا کر مجھے کہتے آپ ان سے مباہلہ کیوں نہیں کر لیتے تا دشمنوں کا منہ بند ہو جائے تو میں انہیں یہی جواب دیتا ہوں کہ میں مباہلہ کس سے کروں کیا یہ الزام لگانے والا شخص دینی یا اخلاقی لحاظ سے کوئی بھی حیثیت رکھتا ہے؟ پھر بعض دوست جب الزامات کی اشاعت کو دیکھ کر زیادہ متاثر ہوتے تو میں انہیں سمجھانے کیلئے کہتا کہ اگر کوئی شخص کسی چوڑھی یا کنچی کو آٹھ آنے دے کر بازار میں کھڑا کر دے اور وہ آپ پر الزام لگا دے اور کہے کہ اگر یہ الزام غلط ہے تو مجھ سے مسجد میں مباہلہ کر لو تو کیا اس چوڑھی یا کنچنی کے مقابلہ میں آپ مباہلہ کیلئے تیار ہو جائیں گے؟ اس پر بات اُن کی سمجھ میں آجاتی اور کہتے ہیں کہ ہاں یہ تو ٹھیک ہے۔تو مقابلہ کیلئے بھی انسان اپنے مد مقابل کی حالت کو دیکھتا ہے میں تو نہیں سمجھتا ہماری جماعت کا کوئی عقلمند اس شخص سے مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہو خصوصاً اس حالت میں کہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ایسے آدمی خود کام نہیں کرتے بلکہ کچھ اور کرانے والے ان سے کام کراتے ہیں۔پس اگر کوئی احمدی قانون کو توڑنے پر آئے گا تو وہ اس پر حملہ کر کے کیوں قانون توڑے گا وہ اس پر توڑے گا جس نے انگیخت کی اور اُسے اُکسایا۔اول تو ہماری تعلیم کے مطابق وہ صبر کرے گا لیکن اگر کوئی دیوانگی کا شکار ہو جائے تو جیسے غالب نے کہا ہے