خطبات محمود (جلد 17) — Page 528
خطبات محمود ۵۲۸ سال ۱۹۳۶ کو اس قد رعبادت سے منع کیا۔انہوں نے جواب دیا کہ تم عجیب قسم کے بھائی ہو کہ مجھے نیکی سے روکتے ہو اور جب وہ رات کو عبادت کیلئے اُٹھنے لگے تو انہوں نے نہ اُٹھنے دیا اور زبردستی لٹا دیا اور جب دن کو روزہ رکھنے لگے تو روزہ بھی نہ رکھنے دیا۔اس پر انصاری نے آنحضرت ﷺ سے اس امر کی شکایت کی تو حضور نے فرمایا کہ تمہارے مہاجر بھائی کا یہ فعل بالکل درست ہے اور فرمایا لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِجَارِكَ عَلَيْكَ حَقًّا اے۔یعنی ہر وقت عبادت درست نہیں کیونکہ تجھ پر تیرے اپنے نفس، بیوی اور ہمسایہ کے بھی حقوق ہیں۔گویا صحابہ میں ہمیشہ اس بات کا بھی مقابلہ ہوا کرتا تھا کہ وہ عبادت میں کسی سے کم نہ رہیں لیکن آج کل کے مسلمان ہر وقت ایسی راہوں کی تلاش میں لگے رہتے ہیں جن سے وہ عبودیت کے پنجے سے نجات پاسکیں اور ان کا اپنے منہ سے یہ کہنا کہ ہم خدا تعالیٰ کے عبد ہیں اس مثال کے مطابق ہے کہ سو گز واروں ایک گز نہ پھاڑوں یعنی منہ سے تو سو گز وارنے کو تیار ہیں لیکن اگر ان کو فی الواقعہ پھاڑنے کیلئے کہا جائے تو انکار کر دیں گے۔یوں تو عبودیت کے دعویدار ہیں لیکن ان میں رکمبر ، تصنع ، ریاء، نمائش سب قسم کے عیوب اور نقائص پائے جاتے ہیں اور زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ وہ اپنے عیوب کو عیوب نہیں سمجھتے اور ان کی مثال اُس بیمار کی طرح ہے جو اپنی بیماری کا احساس نہیں کرتا۔ایسے بیمار کا علاج بھی مشکل سے ہی ہو سکتا ہے اور اگر کوئی شخص ان کو سمجھانے لگے تو اُلٹا اس کی بات کو بُر امانتے ہیں۔قرآن مجید میں یہ ایک ممتاز خوبی ہے کہ جب کبھی کوئی حکم بیان کرتا ہے تو معاً اس کے ساتھ ہی اس حکم کے فوائد اور اغراض بھی بیان کر جاتا ہے اور یہ خوبی کسی اور کتاب میں نہیں پائی جاتی کیونکہ جب وہ کوئی حکم دیتی ہیں تو اس حکم کے نتائج، فوائد اور اس کے حصول کے طریق نہیں بتاتیں۔لیکن قرآن مجید ان تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھتا ہے اسی لئے جب اس نے إِيَّاكَ نَعْبُدُ فرما ساتھ ہی اس کا نتیجہ اور فائدہ بھی اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ لے کے الفاظ میں فرما دیا۔گویا ایاک نَعْبُدُ کے لے إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ بطور دلیل کے ہے۔نیز بطور معیار کے بھی یعنی جو شخص عبودیت کا مدعی ہو ہم اس کو تب ہی سچا سمجھیں گے جبکہ اِيَّاكَ نَسْتَعِینُ کا اعلیٰ مقام اس کو حاصل ہو۔پس ايَّاكَ نَعْبُدُ بطور دلیل کے ہے إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کیلئے اور اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ بطور دلیل کے ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ