خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 526

خطبات محمود ۵۲۶ ٣٠ سال ۱۹۳۶ استعانت بغیر عبودیت کے حاصل نہیں ہو سکتی فرموده ۱۴ راگست ۱۹۳۶ء بمقادھرم ساله) ( غیر مطبوعہ ) تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- کہنے کو تو سب لوگ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا بندہ کہتے ہیں اور خواہ کوئی بادشاہ ہو یا فقیر اس بات میں جھجک محسوس نہیں کرتا کہ وہ خدا تعالیٰ کا غلام ہے۔مگر دیکھنا یہ ہے کہ واقعہ میں اس کے اندر عبودیت موجود بھی ہے یا نہیں۔منہ سے غلامی کا اقرار کر لینا اور بات ہے اور اپنے عمل سے خدا تعالیٰ کے غلام ہونے کا ثبوت پیش کرنا بالکل اور بات ہے۔بسا اوقات ایک آدمی اپنے منہ سے تو ایک بات کا اقرار کر لیتا ہے لیکن جب امتحان اور آزمائش کا وقت آتا ہے تو فیل ہو جاتا ہے۔ابوسینا ایک شخص تھے جن کے خیالات بہت اعلیٰ ہوتے تھے۔انہوں نے ایک دفعہ ایسی بات کہی جس کا ان کے تمام شاگردوں پر خاص اثر ہوا کہ ان کا ایک شاگرد بے تحاشہ کہہ اُٹھا آپ تو ی۔نبوت کے اہل ہیں آپ تو وہ کام کر سکتے ہیں جو آنحضرت اللہ سے بھی نہیں ہو سکتے۔وہ تھے تو مسلمان لیکن اپنے شاگرد کی اس بات کو سن کر مصلحنا خاموش ہور ہے۔کچھ عرصہ کے بعد سردی کا موسم آ گیا اور اس قدر شدید سردی پڑی کہ تالابوں کا پانی منجمد ہونا شروع ہو گیا۔اس شدید سردی کی حالت میں انہوں نے ایک تالاب کو دیکھ کر اپنے اسی شاگرد کو کہا تم اس تالاب میں تو گو دو۔حکم سن کر ان کا شاگر د حیرت سے ان کا منہ دیکھنے لگا جس کا مطلب یہ تھا کہ آپ یہ کیسا تکلیف اور ناممکن العمل حکم دے رہے ہیں اور کہنے لگا آپ مجھ سے یا تو مذاق کر رہے ہیں یا پھر آپ پاگل