خطبات محمود (جلد 17) — Page 525
خطبات محمود ۵۲۵ سال ۱۹۳۶ ایک مؤمن بھی یہ پسند نہیں کر سکتا کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کے دین پر احسان رکھے۔وہ پسند کرے گا کہ وہ اکیلا خدا تعالیٰ کی راہ میں لڑائی لڑے بجائے اس کے کہ اس کے پہلو میں کوئی ایسا شخص ہو جو خدمت کر کے احسان جتانے والا ہو۔پس جو بچے مؤمن ہیں وہ اس بات کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں کر سکتے کہ کوئی ان کا ساتھ دیتا ہے یا نہیں اور جو بچے مؤمن نہیں وہ پتھر ہیں جو قوم کے گلے میں پڑے ہوئے ہیں اور جن کی وجہ سے خطرہ ہے کہ بعض دوسرے لوگ بھی ڈوب جائیں۔پس جتنی جلدی یہ پتھر دور ہو جائیں اور جتنی جلدی ان سے نجات ملے اتنا ہی اچھا ہے۔ہاں چونکہ جن لوگوں سے تعلق اور محبت ہو اُن کے علیحدہ ہونے پر افسوس بھی آتا ہے اس لئے ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے کمزوروں پر رحم فرمائے ، انہیں ایمان اور اخلاص عطا فرمائے اور ہمیں بھی وہ طاقت بخشے کہ نہ دنیا کی آفات اور مصیبتیں ہمیں ڈرا سکیں اور نہ حکومتیں اور بادشاہتیں ہمیں مرعوب کرسکیں۔صرف ایک ہی چیز ہو جو ہمارا مقصود ہو اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کی رضا اور اُس کی محبت ہمیں حاصل ہو اور اُس کے قرب کا مقام ہمیں ملے۔خدا تعالیٰ کیلئے جان دینا ہمارے لئے سب - بڑی نعمت ہو اور اُس کی خوشنودی کیلئے مرنا ہماری سب سے بڑی راحت۔اسدالغابه جلد ۳ صفحہ ۱۵۷۔مطبوعہ ریاض ۱۲۸۶ھ تاريخ الخلفاء للسيوطى صفحه ۵۱۔مطبوعہ لاہور ۱۸۹۲ء النساء: ۶۰ سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحہ ۱۶۔مطبوعہ مصر ۱۲۹۵ھ ه بخاری کتاب المغازى باب فضل من شهد بدراً النصر : ۲ تا آخر ( الفضل ۱۹ راگست ۱۹۳۶ ء )