خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 498

خطبات محمود ۴۹۸ سال ۱۹۳۶ ایسا عمدہ انتظام کیا کہ کسی قسم کی شورش نہ ہوئی۔لوگ پتھروں کو لے کر مکانوں پر چڑھے ہوئے تھے مگر ان دونوں نے کہہ دیا کہ اگر کسی نے شرارت کی تو ہم اُسے اِس قد رسزا دیں گے کہ وہ یادر کھے گا یہ سن کر سب دشمن ڈر گئے۔مجھے یاد ہے کہ جب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر نکلتے وہ ساتھ رہتے۔اس سفر میں ایک لیکچر بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیا اور کچھ لوگوں نے اس میں شورش کرنی چاہی اور بعض آنے والوں پر پتھر پھینکے۔مسٹر بیٹی نے ان لوگوں کو ڈانٹ کر ہٹا دیا کی اور جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لیکچر ختم ہو چکا تو بآواز بلند کہا کہ مجھے ان مسلمانوں پر افسوس آتا ہے کہ غصہ تو ہم کو آنا چاہئے تھا کہ انہوں نے اپنے لیکچر میں ہمارے خدا کو مردہ ثابت کیا ہے اور ہمارے خلاف اور بہت سی باتیں کہی ہیں لیکن مسلمانوں کے نبی کی بہت تعریف کی ہے اور وہی پھر بھی فساد کرتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے آپ کو سیالکوٹ میں ہر شر سے محفوظ رکھا اور اس سے دشمن اور بھی زیادہ غصہ میں بھر گئے۔چنانچہ انہوں نے آخر تجویز کی کہ آپ کی واپسی پر ٹرین پر پتھر برسائے جائیں اور جو لوگ چھوڑنے جائیں واپسی کے وقت ان کو دکھ دیا جائے۔چنانچہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام واپس ہوئے تو آپ کی گاڑی پر پتھر برسائے گئے اور جولوگ وداع کیلئے گئے تھے واپسی پر اُن پر حملہ کیا گیا۔ان لوگوں میں مولوی برہان الدین صاحب مرحوم بھی شامل تھے۔لوگ بُری طرح ان کے پیچھے پڑ گئے ستر یا بہتر سال ان کی عمر تھی اور نہایت کمزور تھے مگر خندہ پیشانی سے مار کھائی حتی کہ ایک شخص نے گوبر اٹھایا اور ان کے منہ میں ڈال دیا۔بعض دوستوں نے سنایا کہ مولوی صاحب اُس وقت بالکل غمگین نہ تھے بلکہ بہت خوش تھے اور بار بار کہتے تھے ایہ نعمتاں کتھوں۔ایہ نعمتاں کتھوں یعنی یہ نعمتیں ہم کو پھر کب میسر آسکتی ہیں؟ گویا ماً مور کی خدمت میں مار کھانے کے مواقع روز روز حاصل نہیں ہوا کرتے۔دیکھو ! جس چیز کو لوگ ذلت خیال کرتے ہیں اُس کو مولوی صاحب نے عین عزت خیال کیا اور یہی قرآنی منشاء ہے۔قرآن مجید کے نزدیک ذلت یہ نہیں کہ لوگ ہم کو گالیاں دیں کیونکہ گالیاں تو آنحضرت ﷺ کو بھی دیں گئیں ، حضور پر اوجھڑی بھی پھینکی گئی تو کیا گالیاں دی جانے اور اوجھڑی پھینکے جانے سے حضور کی ذلت ہوئی ؟ ہر گز نہیں۔حضور کا نام ہی محمد ہے جس کے معنی عزت دیا گیا کے ہیں۔پس جو واقعہ بھی حضور سے گزرا وہ یقیناً سراسر عزت ہے۔اگر یہ بات نہیں تو خدا تعالیٰ جھوٹا ٹھہرتا ہے کیونکہ اس کے