خطبات محمود (جلد 17) — Page 494
خطبات محمود ۴۹۴ سال ۱۹۳۶ اولاد، دوستوں اور رشتہ داوں کو دنیاوی فوائد حاصل ہوں بلکہ اس انعام سے مراد وہ قربانیاں اور تکالیف ہیں جو انبیاء کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں اُٹھانی پڑتی ہیں اور یہی وہ انعام ہے جس کے مانگنے کیلئے اللہ تعالیٰ ہم کو حکم فرماتا ہے۔نبیوں کے بعد صدیقوں کا مقام ہے۔صدیقوں میں سے حضرت ابو بکر کی ذات ہمارے سامنے ہے۔ہم آپ کی ذات کا مشاہدہ کر کے معلوم کرتے ہیں کہ کیا صدیقیت کے مقام میں کسی قسم کی ذاتی بڑائی مد نظر ہوتی ہے ؟ حضرت ابوبکر صدیق کا اعلیٰ مقام خلافت تھا ہم دیکھتے ہیں کہ کیا اس صدیق نے اس مقام کو ذاتی بڑائی کا ذریعہ بنایا ؟ اس حقیقت کو معلوم کرنے کیلئے میں رسول کریم ﷺ کے معابعد کا ایک واقعہ لیتا ہوں۔حضرت نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد سوائے چند علاقوں کے تمام عرب میں بغاوت پھیل گئی اور اس موقع پر حضرت عمرؓ جیسے صحابی بھی خوفزدہ ہو گئے اور انہوں نے اور دوسرے صحابہ نے یہ مشورہ کیا کہ ان باغیوں سے رعایت کی جائے اور زکوۃ کے لینے میں ان سے نرمی اختیار کی جائے۔دوسرے یہ کہ وہ لشکر جو اسامہ کے ماتحت حضور نے عیسائیوں سے لڑنے کیلئے بھیجا تھا اُس کو روک لیا جائے اور اس لشکر سے موجودہ بغاوت کے دبانے میں مدد لی جائے۔یہ مشورہ کر کے حضرت عمرؓ، حضرت ابو بکر کے پاس گئے اور اُن سے جا کر یہ دونوں باتیں کہیں۔حضرت ابو بکر نے جواب دیا کہ ایک مشورہ آپ کا یہ ہے کہ جیش اسامہ کو روک لوں ، میرا جواب اس بارہ میں یہ ہے کہ کیا ابن محافہ کی یہ طاقت ہے کہ وہ اس لشکر کو جو رسول کریم ﷺ نے بھیجا تھا روک لے؟ یہ لشکر ضرور جائے گا خواہ کفار کا لشکر مدینہ میں گھس آئے اور خواہ مدینہ کی عورتوں کی لاشیں گلیوں میں پھینک دی جائیں 1ے۔باقی رہا ز کوۃ کے مطالبہ میں نرمی اختیار کرنا تو زکوۃ تو خدا تعالیٰ کا حکم ہے اگر لوگ اونٹ کی وہ رسی تک جس سے اونٹ کا گھٹنا باندھتے ہیں جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں دیا کرتے تھے اب دینے سے انکار کریں گے تو میں ان سے جنگ کروں گا ہے۔یہ بات بتاتی ہے کہ وہ ہر عزت خدا اور اس کے رسول کیلئےسمجھتے تھے اپنے لئے انہیں کسی امر کی خواہش نہ تھی۔صلى الله ان کی زندگی میں ایک اور مثال بھی نظر آتی ہے حضرت ابوبکر کے بیٹے عبد الرحمن بھی خلافت کے لائق تھے اور لوگوں نے کہا بھی کہ ان کی طبیعت حضرت عمر سے نرم ہے اور لیاقت بھی