خطبات محمود (جلد 17) — Page 493
خطبات محمود ۴۹۳ سال ۱۹۳۶ کی رسیاں زیادہ سخت باندھی گئی ہیں کیونکہ وہ کراہ رہے ہیں ان کی تکلیف کو دیکھ کر مجھے بے چینی محسوس ہو رہی ہے اور میں سو نہیں سکتا۔صحابہ نے عرض کیا کہ حضور! یہ تو معمولی بات ہے ہم اسی کی وقت حضرت عباس کی رسیاں ڈھیلی کر دیتے ہیں۔حضور نے فرمایا نہیں ، یا تو سب قیدیوں کی رسیاں ڈھیلی کر دی جائیں ورنہ عباس کی رسیاں بھی اسی طرح رہنے دی جائیں۔چنانچہ حضرت عباس اور باقی تمام قیدیوں کی رسیاں ڈھیلی کر دی گئیں ہے اور حضرت عباس کو آرام مل گیا تب حضور آرام کی نیند سوئے۔پس بادشاہت سے حضور نے یا حضور کے دوستوں اور رشتہ داروں نے قطعاً کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا۔وہ بادشاہت تو خدا تعالیٰ کیلئے تھی اور اس بادشاہت میں آپ کو ویسی ہی انفرادی عزت حاصل تھی جیسی اور لوگوں کو تھی۔یاد رکھنا چاہئے ذاتی عزت اور حکومت کی عزت میں فرق ہوتا ہے۔بعض لوگ حکومت اور انفرادی عزت میں فرق نہیں کر سکتے اس لئے حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔حکومت کے بارہ میں آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِى فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ عَصَى أَمِيرِئُ فَقَدْ عَصَانِی ۵ کہ جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاع کی اس نے گویا میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے گویا میری نافرمانی کی۔گویا نظام کے ماتحت جو حکومت آپکو حاصل تھی اُس میں نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے مقرر کردہ امیروں کیلئے بھی آپ گھی اطاعت کے طالب ہیں لیکن جہاں ذات کا سوال آتا ہے وہاں اپنے یا اپنے عزیزوں کیلئے کوئی زائد فائدہ طلب نہیں فرماتے۔پس حاکمانہ مرتبہ اور چیز ہے اور انفرادی عزت اور چیز ہے۔بھلا اس اطاعت سے حضور کو کیا جسمانی فائدہ ہو سکتا تھا ہاں اس سے خدا تعالیٰ کی حکومت ضرور قائم ہوتی تھی۔لوگ ایسی حکومت کو ذاتی عزت خیال کر لیتے ہیں حالانکہ ذاتی عزت اور ذاتی فائدہ تو یہ ہے کہ کوئی شخص حکومت کو اپنے آرام و آسائش میں استعمال کرے۔مثلاً جاگیریں حاصل کرے یا مال جمع کرے وغیرہ۔لیکن حضور نے اس حکومت سے ایسا فائدہ ہرگز حاصل نہیں کیا بلکہ وہ تو حج ، زکوۃ اور قربانیوں کیلئے لوگوں کو دعوت دیتے تھے۔پس وہ بڑائی جو نظام کیلئے ہو وہ ذاتی بڑائی نہیں بلکہ ایسی بڑائی تو خدا تعالیٰ کی حکومت قائم کرنے کیلئے ضروری ہے۔پس جب یہ ارشاد ہوا کہ تم لوگ نبیوں والے انعام مانگو تو اس سے یہ مراد نہیں کہ ہم کو ایسی حکومت ملے جس میں ہماری ذات،