خطبات محمود (جلد 17) — Page 49
خطبات محمود ۴۹ سال ۱۹۳۶ء وقت آنے پر دنیا حیران ہو جائے گی کہ ان گڈریوں میں کیسے سپہ سالار تھے جنہیں کوئی نہ دیکھ سکا۔حضرت عبدالرحمن بن عوف کا ذکر میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ جنگ بدر میں ان کے دائیں بھی اور بائیں بھی دو انصاری لڑکے کھڑئے تھے۔ان کا بیان ہے کہ جب میں نے اُن کو دیکھا تو مجھے حسرت ہوئی کہ آج موقع تھا کہ کفار سے اُس بے حرمتی کا کچھ بدلہ لیتا جو وہ رسول کریم کی کرتے رہے ہیں مگر آج میرے دونوں طرف دو نو عمر اور کمزور لڑکے ہیں اور وہ بھی انصاری۔انصار لڑائی کیلئے اچھے نہیں سمجھے جاتے تھے وہ زراعت میں ماہر سمجھے جاتے تھے مگر لڑائی میں نہیں۔پس اُن کو دیکھ کر حضرت عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے خیال کیا کہ میں آج کیا لڑوں گا لیکن میں ابھی یہ خیال ہی کر رہا تھا کہ مجھے ایک طرف سے گہنی لگی۔میں اُس طرف متوجہ ہوا تو اُس طرف کھڑے ہوئے لڑکے نے میرے کان کے پاس منہ کر کے دریافت کیا کہ چچا! لشکر کفار میں سے ابو جہل کون ہے؟ سنا ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کو بہت دکھ دیتا رہا ہے، میرا دل چاہتا ہے کہ آج اُسے قتل کروں۔حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں تجربہ کار فوجی تھا مگر یہ خیال میرے دل میں بھی نہیں آیا تھا کہ میں ابو جہل کو قتل کر سکتا ہوں کیونکہ وہ بہادروں کے دائرہ کے اندر تھا اور اُس تک پہنچنا دشوار تھا لیکن میں نے ابھی اس لڑکے کے سوال کا جواب بھی نہیں دیا تھا کہ دوسری طرف سے مجھے گہنی لگی اور دوسری طرف کے لڑکے نے بھی میرے کان کے ساتھ منہ لگا کر دریافت کیا کہ ابو جہل کون ہے؟ میرا دل چاہتا ہے اُسے قتل کروں۔دونوں نے اس طرح آہستگی سے اس لئے دریافت کیا تھا کہ دوسرا نہ سُن سکے۔حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں کہ مجھے اُن کی جرات پر حیرت ہوئی اور میں نے انگلی سے اشارہ کر کے بتایا کہ ابو جہل وہ ہے جو سپاہیوں کے حلقہ میں کھڑا ہے۔وہ خو د اور زرہ بکتر پہنے ہوئے تھا اور دو طاقتور فوجی افسر اُس کے آگے ننگی تلوار لئے ہوئے پہرہ کیلئے کھڑے تھے لیکن جونہی میں نے انگلی سے اشارہ کیا وہ لڑ کے بعینہ اسی طرح جس طرح ایک عقاب چڑیا پر حملہ کرنے کیلئے لپکتا ہے آگے بڑھے اور دشمنوں کو چیرتے ہوئے اُس پر حملہ آور ہوئے اور قبل اس کے کہ اس کے پہریدار سنبھلنے پاتے انہوں نے ابو جہل کو زخمی کر کے گرا دیا ہے۔تو کی وہ لڑکے حضرت عبدالرحمن بن عوف کے پاس کھڑے تھے مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے اندر ایسی زبر دست ایمانی طاقت ہے۔اسی طرح اس مجلس میں ایسے لوگ ہیں جن کی ایمانی طاقت کا کوئی