خطبات محمود (جلد 17) — Page 467
خطبات محمود ۴۶۷ سال ۱۹۳۶ ہیں اور ان کو ملانا جائز نہیں۔جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ بے شک عبادت ضروری ہے لیکن وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِجَارِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ۵۔مگر تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے ہمسایہ کا بھی تجھ پر حق ہے۔پس ہمیں تینوں قسم کے ذرائع کا استعمال کرنا ضروری ہے۔ان میں سے ایک تو دعا ، توجہ الی اللہ اور انابت اور عبادت سے کام لینا ضروری ہے۔دوسرے نفس پر قابو پانا، جذبات کود با نا اور علم النفس پر غور کرنا۔تیسرے مزدوری اور اپنے پیشہ میں دیانت سے کام لینا علم دنیوی اور سائنس کا حاصل کرنا ضروری ہے۔پس ہر ایک ھے ضروری ہے مگر الگ الگ دائرہ کی ضرورت ہے جو ایک دوسرے کو ملا دے گا یا تقدیم و تاخیر کرے گا وہ غلطی کرے گا۔یورپ نے روحانیت کو دنیا کے تابع کر کے دنیا کو حاصل کر لیا۔دوسرا فقرہ اس کے برعکس یہ ہونا چاہیئے کہ ہندوستان نے مذہب کو مقدم کر کے مذہب کو حاصل کر لیا لیکن افسوس کی کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کیونکہ ہندوستان نے خدا کے مذہب کو مقدم نہیں کیا بلکہ اپنے نفسانی جذبات کا نام مذہب رکھا اس لئے اسے نہ مذہب ملا نہ دنیا۔اس لحاظ سے یورپ کو فضیلت ہے کہ اس نے کچھ تو حاصل کر لیا۔جس کو مقدم کیا وہ تو مل گیا مگر انہوں نے جس کو مقدم کیا اسے بھی کھو بیٹھے۔اسی حالت کو دور کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ کے مامور آتے ہیں جو لوگوں کی صحیح راہنمائی کر کے مذہب کو مذہب کی جگہ اور اخلاق کو اخلاق کی جگہ اور دنیا کو دنیا کی جگہ رکھتے ہیں۔بظاہر وہ روحانی پیغام لے کر آتے ہیں مگر ان تینوں چیزوں کا گہرا تعلق ہے اور روحانیت میں کمال سے اخلاق کا درست ہونا لازمی امر ہے ، اخلاق کی نگہداشت سے مادیت کی درستی لازمی ہے مگر اس کا عکس درست نہیں۔یعنی یہ ضروری نہیں کہ جس کی دُنیا درست ہو اُس کے اخلاق بھی درست ہوں اور جس کے اخلاق درست ہوں اس کا مذہب بھی درست ہو اور اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کا منشاء انسان کو اپنی طرف لانے کا ہے پس اس نے اخلاق کی درستی اور مادی ترقی کو مذہب کے تابع کر دیا ہے تا کہ جو شخص اس کی طرف توجہ کرے اسے باقی سب کچھ آپ ہی آپ مل جائے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کامل مؤمن کو سب ترقیات حاصل ہوتی ہیں مگر کامل دنیا دار کے متعلق ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنیا تے۔ان کی سب کوشش دنیا میں ہی غائب ہو جاتی ہے گویا روحانیت کے قبول کرنے والے