خطبات محمود (جلد 17) — Page 463
خطبات محمود ۴۶۳ سال ۱۹۳۶ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اسے مذہب کا جر و بنادیں اور یورپین لوگوں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ روحانیات اور اخلاقیات کو مادی دنیا کا حصہ بنا دیں۔وہ لوگ اگر الہام پر غور کرنے لگتے ہیں تو یہی کہتے ہیں کہ یہ انسانی افعال کا جزو ہے، وہ اخلاق پر غور کریں گے تو اسی نقطہ نگاہ سے کہ اس سے انسان کو دنیوی فائدہ ہوتا ہے اور اگر مذہب پر غور کریں گے تو یہی کہیں گے کہ ادنیٰ قسم کے لوگ جو غیر تعلیم یافتہ ہیں مذہب کے نام سے جرائم اور فتنہ و فساد سے بچ جاتے ہیں۔اس کے مقابل پر ہندوستان میں خصوصاً مسلمانوں کو دیکھا جائے تو وہ ہر چیز کو مذہب کا حصہ بنانے کی فکر میں ہیں گویا نماز روزہ سے اُتر کر اخلاق اور دنیوی تمام ضروریات خواہ کسی انجمن کا قیام ہو یا کسی جلسہ کا انعقاد ہو وہ کہتے ہیں کہ وہ ہمارے نزدیک اسلام کا حصہ ہیں اور ان میں شامل نہ ہونے والا کافر و مرتد ہے۔اس معاملہ نے آہستہ آہستہ ایسا خطرناک غلو پیدا کیا ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی بجزئیات بھی خواہ وہ مادی ہوں یا اخلاقی مذہب کا حصہ ٹھہرائی گئی ہیں اور اب تو مذہب آدمیوں کے نام پر ہو گیا ہے۔فلاں مولا نا صاحب کا یہ مذہب ہے اور فلاں عالم کا یہ، اور اس طرح اسلام میں اب کوئی حقیقت باقی نہیں رہی اور یہ لوگ اسلام سے دور جا پڑے ہیں۔غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ در حقیقت مادیات اخلاق اور مذہب اسی قدر قریب قریب ہیں کہ عام آدمی کو معلوم نہیں ہوتا کہ کہاں سے ایک کی حد شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم ہوتی ہے۔اگر مذہب اخلاقیات سے اتنا قریب نہ ہوتا کہ انسان کو پتہ نہ لگتا کہ مذہب اپنی حد سے نکل کر اخلاقیات کی حد میں داخل ہوتا ہے یا اخلاقیات، مادیات سے اتنا قریب نہ ہوتے کہ انسان کو معلوم نہ ہوتا کہ اخلاقیات اپنی حد سے نکل کر مادیات کی حد میں داخل ہوتے ہیں تو اتنا اختلاف جو آج پایا جاتا ہے نہ ہوتا۔پس دونوں قوموں کے اختلاف سے معلوم ہوا کہ دونوں ایک زنجیر کی کڑیاں ہیں اور ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور اتنی قریب ہیں کہ انسان نہیں سمجھ سکتا کہ دونوں کی و حدود کیا ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ نیچے سے اوپر جانے کی وجہ سے یعنی مادیات سے مذہب کی طرف جانے کی وجہ سے چونکہ انسان مادیات سے اثر قبول کر چکا ہوتا ہے اس لئے وہ اوپر کی چیزوں کو مادیات کے تابع کرتا چلا جاتا ہے اور جو مذہب کا مطالعہ کرتے ہوئے مادیات کی طرف آتا ہے وہ اخلاقیات اور مادیات کو بھی مذہب کے تابع کر دیتا ہے اسی لئے کہ وہ اوپر سے اثر قبول